رواں ماہ (مارچ 2026ء) کے دوران عالمی معیشت کو بیک وقت 2 بڑے جھٹکے لگے، جہاں ایران میں جاری جنگ کے باعث معاشی نمو میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کی وجہ سے بڑی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورو زون میں ’کمپوزٹ انڈیکس‘ ماہرین کی توقعات سے زیادہ گر چکا ہے۔ آسٹریلیا میں معاشی سرگرمیوں میں اچانک بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جس سے وہاں معاشی حجم سکڑنا شروع ہوگیا ہے۔
اسی طرح بھارت میں بھی فیکٹریوں کی کارکردگی 2021ء کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے، خاص طور پر جرمنی میں اِن پُٹ لاگت 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اُدھر برطانیہ کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بھی اخراجات کا بوجھ 1992ء کے ’بلیک ویڈنس ڈے‘ کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔
مارچ کے دوسرے نصف حصے میں جمع کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی کمپنیوں میں جنگ کے طویل ہونے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اسی خوف کے پیش نظر کئی اداروں نے خام مال کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
یورپی مرکزی بینک کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے مہنگائی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر فرینکفرٹ اور لندن میں پالیسی سازوں نے شرح سود میں اضافے پر سنجیدہ غور شروع کردیا ہے۔
اسی طرح یورو زون میں اگلے ماہ شرح سود بڑھنے کا امکان ہے جبکہ جاپان اپریل میں اہم فیصلہ کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا پہلے ہی مسلسل دوسری بار شرح سود بڑھا چکا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں اور گرتے ہوئے کاروباری اعتماد نے عالمی معاشی بحالی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے کرس ولیم سن کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت دہرے خطرے سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف جنگ کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، وہیں دوسری جانب معاشی ترقی کی رفتار تشویشناک حد تک سست ہوتی جا رہی ہے۔
موجودہ صورت حال میں برطانیہ میں مینوفیکچرنگ سیکٹر نے کچھ مزاحمت دکھائی ہے لیکن سروسز سیکٹر کی کمزوری نے مجموعی انڈیکس کو گرا دیا ہے۔
بینک آف انگلینڈ کو اب مہنگائی روکنے اور معیشت کو گہری کساد بازاری سے بچانے کے درمیان ایک مشکل اور انتہائی نازک توازن برقرار رکھنا ہو گا۔
ایشیا میں بھارت کی معاشی ترقی 2022 کے بعد سست ترین ریکارڈ ہوئی جبکہ آسٹریلیا کا پروڈکشن انڈیکس 47 تک گر گیا، جو واضح معاشی سکڑاؤ کی علامت ہے۔
جاپان میں بھی کاروباری اعتماد ایک سال کی کم ترین سطح پر ہے، حالانکہ وہاں مہنگائی میں اچانک کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی معیشت کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ عالمی جھٹکوں کے خلاف کسی حد تک لچک دکھا سکتی ہے۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا ہے، لیکن امریکہ اسرائیل اتحاد اور ایران کے درمیان لڑائی تاحال جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت پر جنگ کے مکمل اثرات کا تعین ابھی باقی ہے۔
مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آبنائے ہرمز کتنے عرصے تک بند رہتی ہے اور دنیا بھر کے مرکزی بینک اس پیچیدہ معاشی صدمے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔