سرکاری گزٹ أم القرى نے سعودی عرب میں عربی زبان کی قومی پالیسی کا متن شائع کیا ہے، جس کے تحت تمام شعبوں میں عربی زبان کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اور اسے معاہدوں، اسناد، اعزازات اور سرکاری دستاویزات میں اختیار کرنا ضروری ہوگا۔
اسی طرح سرکاری اداروں کی بین الاقوامی خط و کتابت بھی عربی زبان میں ہوگی جبکہ ضرورت پڑنے پر ترجمہ فراہم کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
ام القری گزٹ کے مطابق قومی پالیسی میں بتایا گیا کہ سعودی عرب نے اپنے مختلف اقدامات، منصوبوں اور پروگراموں کے ذریعے عربی زبان کی سرپرستی، تقویت اور عالمی سطح پر اس کے فروغ کو مسلسل جاری رکھا ہے تاکہ عربی زبان کے علاقائی و عالمی کردار کو مستحکم کیا جا سکے اور عربی و اسلامی ثقافت کی لسانی گہرائی کو نمایاں کیا جا سکے۔
دستاویز کے مطابق عربی زبان کی دیکھ بھال متعدد قوانین اور فیصلوں
میں نمایاں ہے، جن میں اہم یہ ہیں:
شاہی ارادہ نمبر (5604/20/8) مورخہ 22/2/1374ھ، جس میں سعودی شہریت دینے کے لیے عربی زبان پر عبور شرط قرار دیا گیا۔
وزارتی کونسل کا فیصلہ نمبر (266) مورخہ 21/2/1398ھ، جس کے تحت مملکت میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور اداروں کو سرکاری اداروں کے ساتھ خط و کتابت میں عربی زبان استعمال کرنے کا پابند بنایا گیا اور خلاف ورزی پر سزا مقرر کی گئی۔
شاہی حکم نمبر (3/ح/15351) مورخہ 20/6/1400ھ، جس میں مذکورہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سرکاری اداروں اور سرکاری ملکیت کی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدات، ملحقات اور دیگر دستاویزات عربی زبان میں مرتب کریں۔
شاہی حکم نمبر (7/1724/م) مورخہ 10/9/1408ھ، جس میں تمام استعمالات میں عربی زبان کے قواعد کی پابندی کی تاکید کی گئی۔
شاہی حکم نمبر (42808) مورخہ 18/9/1433ھ، جس کے تحت دو زبانوں میں ہونے والے معاہدوں یا مفاہمتی یادداشتوں میں یہ صراحت شامل کرنا لازم قرار دیا گیا کہ عربی زبان کو دوسری زبان کے برابر قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کی مزید توثیق شاہی حکم نمبر (51795) مورخہ 16/7/1445ھ کے ذریعے کی گئی۔
پالیسی میں بتایا گیا کہ روزگار، میڈیا، تجارت، عدلیہ، نمائشوں اور دیگر شعبوں میں عربی زبان کے فروغ کے لیے دو سو سے زائد فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں۔
دستاویز میں زور دیا گیا کہ عربی زبان کی قومی پالیسی ایک جامع فریم ورک کے طور پر سامنے آئی ہے، جو بنیادی رہنما اصول، عمومی قواعد اور اساسی تصورات فراہم کرتی ہے تاکہ عربی زبان کی حیثیت مضبوط ہو اور اس کا تہذیبی و ترقیاتی کردار مستحکم ہو۔
یہ اقدام عربی و اسلامی ثقافت اور شناخت کے تحفظ میں مملکت کے مرکزی عالمی کردار سے ہم آہنگ ہے۔