اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

رحمتوں کے موسم بہار کی آمد آمد

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

نثار احمد حصیر القاسمی

حیدر آباد دکن

انسان فطری طور پر غلطیوں کا مجموعہ بنا کر پیدا کیا گیا ہے، ہر انسان سے غلطیوں اور گناہوں کا صدور ہوتا ہے اس سے صرف انبیا محفوظ و معصوم ہوتے ہیں۔

اس لئے انسان اگر تھوڑا بھی غلطی کرے تو رفتہ رفتہ اس کا انبار لگ جاتا ہے، اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا ہے: 

آدم کی ہر اولاد غلطی کرنے والی ہے مگر ان غلط کاروں میں بہتر وہ ہے جو خطاؤں کے بعد توبہ کرلے۔ (ترمذی، ابن ماجہ و دارمی)

ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم سے معصیت نہ ہو تو اللہ تمہیں ختم کر دے اور ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کریں گے، پھر توبہ کریں گے تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ (مسلم، التوبہ)

مزید پڑھیں

اس کا مطلب ہے کہ انسان سے غلطیوں کا سرزد ہونا، خلاف شرع اعمال و احوال کا ارتکاب ہوجانا اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی باتوں کا پیدا ہوجانا برا نہیں، برائی اس پر اڑے رہنے اور اس پر اصرار کر نے میں ہے، اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا ہے:  

جو اللہ سے بخشش چاہتا ہے وہ گناہوں پر اصرار و ضد کرنے والا نہیں ہوتا اگر چہ وہ دن میں 70 بار گناہ کرے۔ (ترمذی)

اللہ تعالیٰ چونکہ بڑا غفور و رحیم اور اپنے بندوں سے محبت کرنے والا ہے، اس لئے وہ بہانا تلاش کرتا ہے کہ کس طرح وہ بندے کی غلطیوں کو معاف کرے اور اس کے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے بھردے، اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی فضل واحسان کی وجہ سے کوتاہیوں اور نادانیوں کا تدارک کرنے اور نیکی کے رجسٹر کو حسنات سے بھر نے کے لئے سال کے بعض ایام مقرر کئے اور اس میں نیکیوں کو بڑھانے اور عام معافی دینے کا مژدہ سنایا ہے، ایسے ہی ایام ولیالی میں سے رمضان المبارک بھی ہے۔ 

flat lay composition with arabic lantern and snack 2026 01 15 10 04 43 utc

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان موقعوں کو غنیمت جانیں، بندوں پر اللہ کی جو رحمتوں کی بارشیں ہوتی ہیں، اس سے استفادہ کریں، اللہ کی تجلیات سے روشنی حاصل کریں۔

آج ہمیں اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

صبح سے شام تک ہم سے گناہوں کا صدور ہوتا رہتا اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل جاری رہتا ہے جبکہ نیکی کے کاموں سے ہماری دلچسپی مدھم پڑچکی ہے، ایسے میں ان مواقع سے استفادے کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے کہ کسی طرح ہمیں معافی کا پروانہ مل جائے، ہم بھی اکرام کے مستحق بن جائیں، ہمیں اللہ تعالیٰ نے آج موقع دیا ہے کہ ہم اللہ کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلائیں، اپنی محتاجی کا اظہار کریں، گڑ گڑا کر اس سے دعا کریں کہ وہ ہمارے گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کردے اورہمیں زندگی میں عافیت عطا فرمائے۔

top view of family togetherness at eid mubarak mom 2026 01 08 23 38 05 utc

رمضان سے قبل یہ موقع ہے کہ ہم گناہوں سے دھل کر رمضان میں قدم رکھیں۔ 

ہائے افسوس! ہونا تو یہ چاہئے کہ پورے سال غفلت میں رہنے والے، معاصی کے ذریعہ اپنے نفس پر ظلم کر نے والے اورگناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے بندے ان ایام اور اس موقعۂ غنیمت سے زیادہ استفادہ کرتے اور وہ اللہ سے زیادہ گریہ کے ساتھ معافی طلب کرتے اور عفو و درگزر کی درخواست کرتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بندے کی مغفرت کر تا ہے سوائے شرک اور کینہ و کدورت میں مبتلا انسان کے جو دوسرے مسلمان بھائی سے حسد کرے اور ان کی طرف سے دل میں رنجشیں و کدورت رکھتے ہیں۔

concept of ramadan with food and accessories on wh 2026 01 09 07 39 17 utc

مغفرت سے رکا وٹ بننے والی دوسری خطرناک چیز دوسروں سے بغض و حسد اور کینہ و کدورت محض دنیوی اغراض اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے رکھتا ہے، ہاں اگر کسی دینی اسباب کی وجہ سے ہو تو یہ مانع نہیں۔

حضرت ابوہرہرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

جنت کے دروازے ہر پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے اور ہر ایسے بندے کی مغفرت کی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک کر نے والا نہ ہو سوائے اس شخص کے کہ جس کا دوسرے بھائی کے ساتھ بغض وعناد ہو، ان کے بارے میں کہا جا ئے گا کہ اسے اس وقت تک ٹالے رہو جب تک کہ یہ آپس میں مصالحت و رفع دفع نہ کرلیں۔ (مؤطا امام مالک)

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے