ایک نئی چینی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوشت کا استعمال بزرگ افراد کو 100 سال کی عمر تک لے جا سکتا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق چین میں ہونے والی ایک تازہ سائنسی تحقیق نے غذائیت کے ماہرین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے مطابق 80 سال سے زائد عمر کے افراد میں گوشت کھانے سے 100 سال یا اس سے زیادہ عمر تک پہنچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق وہ بزرگ افراد جو اپنی غذا میں جانوروں کے پروٹین کو لینا مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں، ان میں طویل عمر پانے کے امکانات نسبتاً کم دیکھے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
تحقیق کے بعد ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ جسم کی غذائی ضروریات میں واضح تبدیلی آتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سبزی پر مشتمل غذاؤں کے فوائد ختم ہو جاتے ہیں، خاص طور پر زندگی کے ابتدائی اور درمیانی مراحل میں تاہم ماہرین نے اس عمر میں گوشت کھانے کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سائنس الرٹ (ScienceAlert) ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس مطالعے میں چائنیز لانگ جیویٹی ہیلتھی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں 80 سال یا اس سے زائد عمر کے 5 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے اپنی خوراک سے گوشت کو مکمل طور پر نکال دیا تھا، ان میں 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات کم تھے جبکہ گوشت استعمال کرنے والے بزرگ افراد میں یہ شرح نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔
سبزی پر مشتمل غذا اور بڑھاپا
اسی طرح ایک دوسری ویب سائٹ دی کنورسیشن (The Conversation) پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درمیانی عمر میں سبزی پر مشتمل غذاؤں کے فوائد (مثلاً امراضِ قلب یا ذیابیطس کے خطرات میں کمی) بڑھاپے کے آخری مرحلے میں اتنے مؤثر نہیں رہتے۔
اس کے برعکس اس عمر میں کمزوری، پٹھوں کے سکڑنے اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف بورن ماؤتھ میں غذائیت کی لیکچرر کلو کیسی کے مطابق بڑھاپے میں انسان کی غذائی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس عمر میں اصل مقصد پٹھوں کی حفاظت، وزن بہت زیادہ کم ہونے سے بچنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کھانے کا ہر نوالہ جسم کو ضروری اور مطلوبہ غذائیت فراہم کرے۔
بزرگ افراد میں جسمانی وزن کی اہمیت
نئی چینی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ گوشت اور طویل عمر کے درمیان تعلق خاص طور پر اُن بزرگ افراد میں زیادہ واضح تھا جو کم وزن کا شکار تھے جبکہ صحت مند (یعنی زیادہ) وزن کے حامل بزرگ افراد میں یہ فرق نسبتاً کم محسوس ہوا۔
اس مطالعے میں ایک اور دلچسپ پہلو کا انکشاف ہوا کہ مچھلی، انڈے اور دودھ سے بنی مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں بھی 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات تقریباً گوشت کھانے والوں جیسے ہی تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ وہ غذائیں ہیں جو اعلیٰ معیار کی پروٹین، وٹامن بی 12 اور کیلشیم جیسے اہم اجزا فراہم کرتی ہیں۔
ہر عمر کے لیے ایک ہی غذا مناسب نہیں
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہر عمر کے لیے ایک ہی غذائی نظام مثالی نہیں ہو سکتا۔
فائبر سے بھرپور سبزیوں پر مشتمل غذا 40 سال کی عمر میں مفید ہو سکتی ہے، لیکن 90 سال کے فرد کو غذائی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ کیلوریز اور پروٹین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہر غذائیات کلو کیسی کے مطابق خوراک کو عمر کے مطابق ڈھالنا فطرت کے عین مطابق ہے اور اسی عمل میں صحت مند بڑھاپے کا راز پوشیدہ ہے۔