سعودی عرب میں سیل پوائنٹ کے ذریعے اشیا اور خدمات پر ہونے والے اخراجات میں 18 سے 24 جنوری 2026 کے دوران، تنخواہوں کی وصولی سے قبل، نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اخراجات کا حجم 12.52 ارب ریال رہا جو اس سے گزشتہ ہفتے 14 ارب ریال تھا، یوں 10.6 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ لین دین کی تعداد گھٹ کر 213.6 ملین رہ گئی جو 9.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ میں سعودی سینٹرل بینک ’ساما‘ کے اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی اشیا اخراجات کے لحاظ سے سرفہرست رہیں جن پر 1.9 ارب ریال خرچ کیے گئے تاہم اس میں 7.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے بعد ریستوران اور کیفے آئے جہاں اخراجات 1.5 ارب ریال رہے جو 18.5 فیصد کم ہیں۔
ملبوسات اور فیشن ایکسسریز پر اخراجات 985.9 ملین ریال رہے جن میں 19.7 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح پیٹرول پمپوں پر اخراجات 890.1 ملین ریال رہے جو 11 فیصد کم ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 845.5 ملین ریال خرچ ہوئے جو 10.4 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں اخراجات 753.1 ملین ریال رہے جن میں 8.6 فیصد کمی آئی، جبکہ پیشہ ورانہ اور تجارتی خدمات پر 725.4 ملین ریال خرچ کیے گئے جو 11.6 فیصد کم ہیں۔
الیکٹرانک اور برقی آلات پر اخراجات 176.6 ملین ریال رہے، جن میں 5.6 فیصد کمی ہوئی، جبکہ فرنیچر اور گھریلو سامان پر 462.9 ملین ریال خرچ ہوئے، جو 5.4 فیصد کم ہیں۔
اس کے علاوہ زیورات پر 394.6 ملین ریال، اور مواصلاتی خدمات پر 155.4 ملین ریال خرچ کیے گئے۔
اس کے برعکس، تعلیمی شعبے میں اخراجات نمایاں طور پر بڑھ کر 393 ملین ریال تک پہنچ گئے، جو 141.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
شہروں کی سطح پر ریاض میں اخراجات کا حجم تقریباً 4.5 ارب ریال رہا جس میں 6 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اس کے بعد جدہ میں 1.8 ارب ریال کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے، جو 13.6 فیصد کم ہیں، پھر دمام میں 640.6 ملین ریال خرچ ہوئے، جن میں 4.8 فیصد کمی آئی۔