اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

دنیابھرمیں گھریلو قرضوں میں ہوشربا اضافہ، عالمی معیشت کے لیے نیاخطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی معیشت پر قرضوں کا بوجھ، گھریلو قرضوں میں ہوشربا اضافہ اور امریکی و چینی معاشی گراف کا خاکہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی سطح پر گھریلو قرضوں کا حجم 65.3 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے، جو کہ عالیم معیشت کے لیے ایک نیا خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق یہ تشویشناک اضافہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں لوگ اپنے روزمرہ اخراجات اور رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرضوں پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔

امریکہ اور چین قرضوں کا مرکز

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی قرضوں کا بڑا حصہ چند بڑی معیشتوں میں مرکوز ہے۔

امریکہ 21.2 ٹریلین ڈالر کے قرضوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ چین 12.3 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار عالمی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

امریکی معیشت اور قرضوں کا بوجھ

امریکا دنیا کی کل آبادی کا صرف 4 فیصد ہے، لیکن عالمی گھریلو قرضوں کا ایک تہائی حصہ اسی کے پاس ہے۔

امریکی شہریوں پر رہائشی قرضوں کے علاوہ کار لون، تعلیمی قرضے اور کریڈٹ کارڈز کا بوجھ بھی شامل ہے، جو 2025 میں 1.3 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

عالمی معیشت پر قرضوں کا بوجھ، گھریلو قرضوں میں ہوشربا اضافہ اور امریکی و چینی معاشی گراف کا خاکہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

چینی معیشت میں قرضوں کا پھیلاؤ

چین میں گھریلو قرضوں کی کہانی نسبتاً نئی مگر انتہائی تیز ہے۔

2006 میں یہ قرضے محض 277 ارب ڈالر تھے جو اب 12.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ جی ڈی پی کے تناسب سے یہ 11 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک جا پہنچے ہیں، جس کی بڑی وجہ رئیل اسٹیٹ کا عروج ہے۔

چینی معیشت کا حفاظتی پہلو

رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مندی کے باعث چین میں قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات بڑھی ہیں، تاہم، چین کے پاس ایک اہم سہارا شہریوں کی بچت کی شرح ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں شہری علاقوں میں گھرانے اپنی آمدنی کا 35 فیصد تک بچا لیتے ہیں، جو انہیں کسی بھی بڑے مالیاتی بحران سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عالمی معیشت پر قرضوں کا بوجھ، گھریلو قرضوں میں ہوشربا اضافہ اور امریکی و چینی معاشی گراف کا خاکہ
فوٹو: اوورسیز پوسٹ

عالمی معیشت پر اثرات

کینیڈا جیسے ممالک کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے وہاں قرضوں کا حجم بہت زیادہ ہے۔

امریکہ اور چین کا عالمی قرضوں میں نصف سے زائد حصہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ان ممالک کی معیشت متاثر ہوئی تو پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

عالمی معاشی نمو کا دارومدار اب قرضوں اور رہائشی مارکیٹ پر منحصر ہو چکا ہے۔ 

موجودہ دور میں سود کی بلند شرحوں اور اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں بڑھتے ہوئے گھریلو قرضے عالمی مالیاتی نظام کی کمزوری اور عدم استحکام کی واضح نشانی ہیں۔