سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے جذباتیت کے بجائے ٹھوس حقائق اور تزویراتی اقدامات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ پر شائع فیصل عباس کے تجزیے کے مطابق ریاض کے حکام اپنے الفاظ اور عملی اقدامات میں مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور بعض مواقع پر خاموشی اختیار کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہری اسٹریٹجک حکمت عملی ہوتی ہے۔
مارچ 2026 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں واضح کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری،
علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاض حکومت نے عوامی دباؤ کے بجائے قومی سلامتی کو فوقیت دی ہے۔
جنگ کے دوران ریاض کی تزویراتی ترجیحات
حالیہ کشیدگی میں سعودی عرب کا بنیادی مقصد اپنے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی حفاظت کرنا رہا ہے۔
مملکت نے خلیجی ممالک کی معاونت اور جنگ کو ایک وسیع علاقائی بحران بننے سے روکنے پر توجہ مرکوز کی تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
ایران کے ساتھ تعلقات اور سفارتی چینلز
سعودی عرب نے تہران کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک تزویراتی توازن قائم رکھا ہے، جس کے تحت جہاں ایران کے ملٹری اتاشی کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا، وہیں سفارتی روابط برقرار رکھے گئے۔
وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے مابین ہونے والے رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سفارتی دروازے کھلے ہیں۔
بین الاقوامی ناکامی اور خطے کے مضمرات
اگر مغربی طاقتوں، خاص طور پر سابق امریکی انتظامیہ نے ایک دہائی قبل ایران کے جوہری پروگرام (جے سی پی او اے) کے مذاکرات کے دوران تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسی ملیشیاؤں کی حمایت کے معاملے کو بھی شامل کیا ہوتا تو آج خطہ اس سنگین بحرانی کیفیت سے محفوظ ہو سکتا تھا۔
ایرانی جارحیت کا ردعمل اور علاقائی سلامتی کا عزم
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے ایران اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی طرف سے حالیہ حملوں کا خاموش لیکن مؤثر جواب دیا ہے۔
یہ جوابی کارروائی کسی غیر ملکی اتحاد کا حصہ نہیں تھی بلکہ ریاض کی جانب سے اپنی خودمختاری اور ’بیجنگ معاہدے‘ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے ایک واضح انتباہ تھا۔
مستقبل کی راہ اور امن کی کوششیں
ریاض اب ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ ایک علاقائی عدم جارحیت کے معاہدے پر غور کر رہا ہے۔
یہ اقدام جنگ کے بعد کے منظر نامے میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔ سعودی عرب کا مقصد آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے بحال کرنا اور ہلسنکی جیسے میکانزم کے ذریعے دیرپا مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔
سعودی عرب کی پالیسی کا محور کسی بھی قیمت پر جنگ کو روکنا اور اپنے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
تہران کے ساتھ تعلقات میں تزویراتی صبر اور سفارتی فعالیت کا امتزاج ظاہر کرتا ہے کہ ریاض خطے میں استحکام کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔