روسی صدر ولادیمیر پوٹن دو روزہ دورے پر چین پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، یوکرین جنگ، ایران کی صورتحال اور توانائی تعاون پر اہم مذاکرات کریں گے۔
کریملن کے مطابق ’پاور آف سائبیریا 2‘ گیس منصوبہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن آج منگل کے روز دو روزہ دورے پر چین پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف عالمی امور پر بات چیت کریں گے۔
پیوٹن کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا، جس میں وزراء، اقتصادی حکام اور روسی توانائی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ماسکو یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کے دوران بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو غیرمعمولی اہمیت دے رہا ہے۔
کریملن کے مطابق دونوں صدور بدھ کے روز باضابطہ مذاکرات کریں گے، جن میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے علاوہ یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت اہم عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق روسی صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ روس اور چین کے تعلقات غیرمعمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں، اور زور دیا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری کسی کے خلاف نہیں بلکہ عالمی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ہے۔
دورے سے قبل روسی صدر کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوف نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین دورے اور پوٹن کے
دورۂ بیجنگ کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور پیوٹن کے دوروں میں کوئی تعلق نہیں، ہم عموماً چینی قیادت کے ساتھ مذاکراتی منصوبہ پہلے سے طے کرتے ہیں۔
اوشاکوف نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے صدر کے دورۂ بیجنگ پر پہلے ہی اتفاق کر لیا تھا اور 20 مئی کو مذاکرات کی تاریخ مقرر کی تھی۔
ہمارے دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، کئی معاملات پر ہمارے مؤقف مکمل طور پر یکساں ہیں تاہم ہم کسی کے خلاف اتحاد نہیں بنا رہے بلکہ عالمی امن اور خوشحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چین کو روسی تیل کی برآمدات میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ روس چین کو قدرتی گیس فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
کریملن کے مطابق توانائی کا شعبہ مذاکرات کے اہم ترین ایجنڈے میں شامل ہوگا، خصوصاً ’پاور آف سائبیریا 2‘ گیس پائپ لائن منصوبہ، جس کے ذریعے روس چین کو گیس کی برآمدات میں مزید توسیع کا خواہاں ہے۔
یہ دورہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان حسنِ ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے معاہدے کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔