ایران جنگ کے ابتدائی مہینوں کے دوران سعودی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی مضبوطی ثابت کر دی ہے۔
مزید پڑھیں
الشرق کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی معیشت کی مجموعی شرح نمو 2.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
اگرچہ جنگ کی وجہ سے بجٹ خسارہ 2018 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم ماہرین اسے حکومت کا دانستہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
حکام نے دانشمندی اور دوراندیشی سے معاشی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی کرنے سے گریز کیا ہے۔
اسی دورانیے میں مملکت میں کیپٹل انویسٹمنٹ یعنی سرمایہ کاری میں گزشتہ دس برس کے دوران سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
وژن 2030 کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سال کے ابتدائی مہینوں میں اتنی بڑی سرمایہ کاری ریکارڈ ہوئی۔
علاوہ ازیں حکومت نے لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر اخراجات تیز کر دیے ہیں تاکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کو خلیج عرب سے جوڑا جا سکے۔
اس دوران دفاعی اخراجات میں 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایندھن پر حکومتی سبسڈی بھی برقرار رکھی گئی۔
اسی طرح آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود سعودی ارامکو نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ینبع کی بندرگاہ سے یومیہ 50 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا۔
اس حکمت عملی کی بدولت تیل کے شعبے پر پڑنے والے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا گیا۔
پہلی سہ ماہی کے دوران غیر تیل (نان آئل) شعبوں میں 2.3 فیصد اور حکومتی سرگرمیوں میں 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس کے اعداد و شمار بھی اپریل میں نجی شعبے کی بحالی اور معاشی بہتری کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مملکت میں افراط زر کی شرح اپریل میں کم ہو کر 1.7 فیصد رہ گئی ہے جو موجودہ عالمی رجحان کے بالکل برعکس ہے۔
حکومت کی جانب سے مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نے مہنگائی کنٹرول کرنے میں مدد دی۔
اسی طرح سعودی مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اپریل کے اختتام تک 494.8 ارب ڈالر رہے، جو جنوری کے مقابلے میں 20 ارب ڈالر زیادہ ہیں اور ملکی کرنسی کے استحکام اور درآمدات کے لیے مضبوط ڈھال ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہوتی ہے تو سعودی عرب کا بجٹ خسارہ 4 فیصد سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ فی الحال مملکت اپنی مالیاتی پالیسیوں اور متبادل تجارتی راستوں سے جنگی اثرات کا مقابلہ کر رہی ہے۔