کسی سائنسی فلم کے منظر جیسا محسوس ہونے والا یہ واقعہ اب جاپان میں حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں
جاپان نے رہائشی علاقوں میں ریچھوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور انسانی آبادی پر حملوں کے پیشِ نظر ’مونسٹر وولف‘ نامی روبوٹک بھیڑیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔
روبوٹک بھیڑیے ہوکائیڈو جزیرے کی کمپنی ’اوہتا سیکی‘ نے تیار کیے ہیں، جنہیں ابتدائی طور پر کھیتوں کو جنگلی سؤروں اور ہرنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
تاہم اب ان کا استعمال گالف کورسز اور تعمیراتی مقامات سمیت رہائشی آبادیوں تک پھیل چکا ہے۔
کام کرنے کا طریقہ
یہ روبوٹ انفراریڈ سینسرز سے لیس ہیں جو حرکت کو بھانپ لیتے ہیں اور جیسے ہی کوئی جانور قریب آتا ہے تو یہ روبوٹ اپنا سر ہلاتے ہیں۔
جانور دیکھتے ہی ان کی سرخ آنکھیں چمکنے لگتی ہیں اور یہ بھیڑیوں کی دھاڑ کے ساتھ ساتھ مصنوعی شور پیدا کرتے ہیں جو جانوروں کو خوفزدہ کر دیتا ہے۔
طویل انتظار کی حد تک بڑھتی مانگ
سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا ہے کہ یہ آلہ ریچھوں کو بھگانے میں نہایت موثر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جاپان میں اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور خریداروں کو روبوٹ کے حصول کے لیے 3 ماہ تک کا طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
A wolf-shaped robot developed by a Hokkaido-based manufacturer that can scare off wild animals has seen a surge in orders amid an increase in bear attacks and sightings.https://t.co/2zE3fmC9wP
— The Japan News (@The_Japan_News) May 12, 2026
جاپان میں ریچھوں کی بڑھتی ہوئی تعداد
جاپان میں حالیہ عرصے کے دوران ریچھوں کی جانب سے انسانی آبادی میں داخلے کے 50 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماہرین اس صورتحال کا ذمہ دار موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگلات میں خوراک کے قدرتی ذرائع میں کمی کو قرار دے رہے ہیں، جس سے ریچھ شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔
روبوٹکس کے میدان میں نیا رجحان
اگرچہ ’مونسٹر وولف‘ کو ابتدا میں انٹرنیٹ پر ایک عجیب و غریب ایجاد سمجھ کر مذاق اڑایا گیا تھا، لیکن اب یہ حقیقی مسائل کے حل کے لیے روبوٹکس کے بہترین استعمال کی مثال بن چکا ہے۔
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ روبوٹ صرف انسانی مددگار نہیں بلکہ سیکیورٹی کے لیے بھی کارگر ہیں۔
جاپان اب پیچیدہ انسان نما روبوٹس کے بجائے عملی اور مخصوص ضروریات کو پورا کرنے والے سسٹمز پر توجہ دے رہا ہے۔
یہ جدت پسندی تکنیکی افادیت اور روایتی طریقوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے جو دیگر ممالک کے لیے بھی ایک نمونہ بن سکتی ہے۔