ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بننے والا سیاحتی بحری جہاز ’ایم وی ہونڈیوس‘ پیر کے روز ہالینڈ کی روٹرڈیم بندرگاہ پہنچ گیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق جہاز کی آمد کے ساتھ ہی حکام نے اسے جراثیم کش ادویات سے مکمل طور پر صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اِس وقت جہاز پر عملے کے 23 ارکان اور 2 طبی ماہرین موجود ہیں، جنہیں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہالینڈ کے پرچم بردار اس جہاز پر 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 150 مسافر اور عملہ سوار تھا۔
سفر کے دوران عالمی ادارہ صحت کو پہلی بار 2 مئی کو جہاز پر موجود افراد میں سانس کی شدید تکلیف کی علامات ظاہر ہونے کے بارے میں باقاعدہ مطلع کیا گیا تھا۔
اس وبائی لہر کے دوران اب تک 3 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں ایک ہالینڈ کا جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہے۔
ان ہلاکتوں کے بعد جہاز پر خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور مختلف ممالک نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے تھے۔
یہ بحری جہاز ’اوشین وائیڈ ایکسپڈیشنز‘ کی ملکیت ہے جو رواں ماہ کے آغاز میں کیپ ورڈے کے ساحل کے قریب پھنس گیا تھا۔ مقامی حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر مسافروں کو ساحل پر اترنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
Cruise ship hit by hantavirus outbreak docks in Rotterdam https://t.co/3L6S9Qnw0H
— BBC News (UK) (@BBCNews) May 18, 2026
صورت حال کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت اور یورپی یونین کی درخواست پر اسپین نے جزائر کینری میں مسافروں کے انخلا کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔
اس آپریشن کے بعد جہاز کو محدود عملے اور 2 طبی ماہرین کے ساتھ روٹرڈیم کی جانب روانہ کیا گیا تھا جہاں وہ آج پہنچا ہے۔
روٹرڈیم بندرگاہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ عملے کے ارکان کو 42 روز تک قرنطینہ میں رہنا پڑ سکتا ہے۔
ابھی یہ فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ غیر ملکی عملہ اس طویل مدت کے لیے انہی مراکز میں قیام کرے گا یا انہیں کہیں اور منتقل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے لیکن قریبی رابطے کی صورت میں یہ انسانوں کے درمیان بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں تقریباً 6 ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے جو کہ ایک طویل دورانیہ ہے۔
کئی ممالک نے ان مسافروں اور عملے کو الگ تھلگ کر دیا ہے جو پہلے ہی جہاز سے اتر چکے تھے۔ اسی طرح ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والے افراد کو بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو ہر ممکن طور پر روکا جا سکے۔