اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

چین میں ہیومن ٹائپ روبوٹس کو انسانوں کی طرح شناختی نمبرز جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
چین میں ہیومن ٹائپ روبوٹس اور ان کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل شناختی نظام کا خاکہ
چین کے ہیومن ٹائپ روبوٹس (فوٹو: انٹرنیٹ)

چین میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کے تحت ہیومن ٹائپ روبوٹس کو باضابطہ طور پر شناختی نمبرز جاری کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

صوبہ ہوبی سے شروع ہونے والے اس اقدام کا مقصد روبوٹس کی سرگرمیوں کی مکمل نگرانی اور ان کی لائف سائیکل کو ٹریک کرنا ہے۔

العربیہ کے مطابق ہر روبوٹ کو 29 حروف پر مشتمل ایک خصوصی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ 

اس نمبر میں کارخانہ دار، پروڈکٹ کا ماڈل، سیریل نمبر، ہارڈ ویئر کی تفصیلات اور مصنوعی ذہانت کی سطح شامل ہوگی۔ مزید براں اسے 11 

حروف کا ایک اضافی منفرد شناخت کنندہ بھی دیا جائے گا۔

منصوبے کے مقاصد اور ٹیکنالوجی

یہ منصوبہ ووہان میں واقع ہوبی سینٹر فار ہیومن ٹائپ روبوٹ انوویشن کے زیر نگرانی چل رہا ہے۔

اس کا مقصد صنعتی اور تجارتی شعبوں میں روبوٹس کے استعمال کو محفوظ بنانا اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنا ہے تاکہ کسی بھی خرابی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ممکن ہو۔

چین میں ہیومن ٹائپ روبوٹس اور ان کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل شناختی نظام کا خاکہ
چین کے ہیومن ٹائپ روبوٹس (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور نگرانی

ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے روبوٹس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔

اس میں جوڑوں کی ٹوٹ پھوٹ، بیٹری کی حیثیت اور نقل و حرکت کی درستگی جیسے ڈیٹا کو ریکارڈ کیا جائے گا۔ اس سے تکنیکی ماہرین کو خرابیوں کی فوری تشخیص میں مدد ملے گی۔

سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ اور شفافیت

یہ شناختی نظام روبوٹس کی دوبارہ فروخت کے عمل کو بھی آسان بنائے گا۔

خریدار اپنے پاس موجود ڈیجیٹل پروفائل کے ذریعے روبوٹ کی سروس ہسٹری، ماضی کی کارکردگی اور موجودہ حالت کا جائزہ لے سکیں گے، جس سے بار بار معائنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

چین کی صنعتی پیش رفت

چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر اس نظام کو نافذ کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں مقامی کمپنیوں بشمول ہینڈ ایکس (HandX) اور دیگر اہم فرمز شامل ہیں۔ یہ نظام عالمی سطح پر معیارات کے تعین کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

چین میں ہیومن ٹائپ روبوٹس اور ان کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل شناختی نظام کا خاکہ
چین کے ہیومن ٹائپ روبوٹس (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی مارکیٹ میں پوزیشن

رپورٹس کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر تقریباً 17 ہزار ہیومن ٹائپ روبوٹس فروخت ہوئے جن کی مالیت 2.88 ارب یوآن تھی۔

اس میں سے 14 ہزار 400 یونٹس کے ساتھ چین کا حصہ 84.7 فیصد ہے، جو عالمی مارکیٹ میں اس کی تکنیکی برتری کو ثابت کرتا ہے۔

چیلنجز اور مستقبل

اگرچہ چین روبوٹکس کی صنعت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن تکنیکی معیارات کا بکھراؤ اور سیفٹی فریم ورک کا فقدان اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔

یہ نیا شناختی نظام ڈیٹا کے تبادلے اور کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنا کر ان خامیوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔