سعودی کی خارجہ پالیسی کسی وقتی بحران یا دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط تجربات کا نچوڑ ہے۔
مزید پڑھیں
ریاض حکومت نے ہمیشہ علاقائی استحکام اور قومی ریاست کے تحفظ کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے وہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی بارودی سرنگوں سے ہمیشہ محفوظ رہا ہے۔
خطے کی موجودہ صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 14 مئی 2026 کو مملکت کا مؤقف ایک بار پھر دنیا کے سامنے واضح ہوگیا ہے۔
حالیہ ایرانی جنگ کے دوران سعودی عرب نے ایک عقلمندانہ سیاسی ماڈل پیش کیا جس میں قومی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہوئے خطے کو بڑی تباہی سے بچایا گیا۔
مختلف قوتوں کی جانب سے خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی کوششوں کے باوجود ریاض نے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔
مملکت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی تنصیبات کھولنے کے مطالبے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا تھا۔
اس فیصلے نے واضح پیغام دیا کہ ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور سعودی قومی سلامتی کو دوسروں کے ایجنڈوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اس مؤقف کے ساتھ ساتھ ریاض نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
سعودی قیادت نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا کہ اسرائیل اس جنگ کو پھیلا کر خطے کے ممالک کو براہ راست تصادم میں ملوث کرنا چاہتا ہے۔
تل ابیب کی اس کوشش کا مقصد اتحادوں کی ترتیب بدلنا تھا، مگر ریاض نے خلیج عرب کو انسانی ڈھال بننے سے بچایا۔ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد بھی سعودی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ریاض نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پڑوسی ممالک پر حملے بند کیے جائیں اور عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
سفارتی حل کی حمایت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کا حق برقرار رکھا ہے۔
سفارت کاری اور دفاعی مضبوطی کے درمیان یہ توازن ہی مملکت کے منفرد سیاسی طریقہ کار کی اصل پہچان ہے۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی تزویراتی پالیسی سوشل میڈیا کے جذباتی بیانیے یا سطحی تجزیوں پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ ریاض کی سفارت کاری مخصوص ایجنڈے رکھنے والے تحقیقی مراکز کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر زمینی حقائق اور گہری سیاسی بصیرت کی بنیاد پر طویل مدتی فیصلے کرتی ہے۔
اس متوازن پالیسی کے نتائج آج واضح ہیں کیونکہ سعودی عرب جنگوں سے دُور رہ کر اپنی ترقیاتی منزل کی جانب گامزن ہے، جبکہ دیگر ممالک بے سود تنازعات کی قیمت چکا رہے ہیں۔
اس کشیدہ ماحول میں ریاض ایک معتبر آواز بن کر مکالمے اور خودمختاری کے احترام پر زور دے رہا ہے۔
سعودی عرب کی سیاسی حکمت عملی نے ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا ہی بہترین راستہ ہے۔
دہائیوں پر محیط اس بصیرت نے ملک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ بڑی ریاستیں جذباتی لہروں کے بجائے دُور اندیشی سے فیصلے کرتی ہیں۔