اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

گرمیوں میں ’ریٹینول‘ کا استعمال: کیا یہ جلد کے لیے نقصان دہ ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گرمیوں میں ریٹینول کا استعمال اور سورج کی شعاعوں سے جلد کی حفاظت کا طریقہ
کچھ حلقے ریٹینول کو دھوپ میں خطرناک بھی قرار دیتے ہیں (فوٹو: اے آئی)

گرمیوں کا موسم آتے ہی جلد کی دیکھ بھال کے معمولات میں ’ریٹینول‘ کے استعمال پر بحث چھڑ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

سوشل میڈیا پر جہاں اسے جلد کے لیے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے، وہیں کچھ حلقے اسے دھوپ میں خطرناک بھی قرار دیتے ہیں۔ 

ماہرینِ امراض جلد کے مطابق ریٹینول گرمیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے۔

ریٹینول جلد کے خلیات کی تجدید کا عمل تیز کرتا ہے، جس سے بیرونی تہہ حساس ہو جاتی ہے۔ 

دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے سے جلن یا سرخی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ریٹینول نہیں، بلکہ سورج سے ناکافی تحفظ اور اس کا بے جا استعمال ہے۔

درحقیقت محتاط انداز میں اس کا استعمال جلد کو الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثرات سے لڑنے میں مددگار ہوتا ہے۔

گرمیوں میں ریٹینول کا استعمال اور سورج کی شعاعوں سے جلد کی حفاظت کا طریقہ
کم از کم ایس پی ایف 50 (SPF 50) والا سن بلاک استعمال کریں اور دن کے دوران اسے دوبارہ لگائیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

صرف رات کا استعمال اور درست طریقہ

ریٹینول کا سب سے بڑا اصول اسے صرف رات کے وقت استعمال کرنا ہے۔ یہ روشنی میں غیر مستحکم ہو جاتا ہے، اس لیے اسے دن میں لگانا جلد کو حساس بنا سکتا ہے۔

چہرہ دھونے کے بعد جلد کے خشک ہونے کا انتظار کریں، کیونکہ نم جلد پر ریٹینول لگانے سے جلن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 

یاد رہے کہ ریٹینول کی معمولی مقدار ہی کافی ہوتی ہے، ضرورت سے زیادہ مقدار صرف خشکی کا باعث بنتی ہے۔

سن بلاک: ناگزیر حفاظتی ڈھال

ریٹینول کے ساتھ سن بلاک کا استعمال بھی لازمی ہے۔ کم از کم ایس پی ایف 50 (SPF 50) والا سن بلاک استعمال کریں اور دن کے دوران اسے دوبارہ لگائیں۔

اگر دھوپ سے مناسب تحفظ حاصل نہ ہو تو ریٹینول کے استعمال سے جلد پر داغ دھبے، خشکی اور قبل از وقت بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گرمیوں میں ریٹینول کا استعمال اور سورج کی شعاعوں سے جلد کی حفاظت کا طریقہ
ریٹینول کے ساتھ سن بلاک کا استعمال بھی لازمی ہے (فوٹو: اے آئی)

طرزِ زندگی کے مطابق ردوبدل

ریٹینول کے استعمال میں لچک ہونی چاہیے۔ اگر آپ گھر کے اندر رہتے ہیں تو معمول برقرار رکھیں، لیکن ساحل سمندر پر جانے یا دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کی صورت میں اس کا استعمال کم کر دیں۔

اگر جلد پر جلن یا خشکی محسوس ہو تو کچھ دن کا وقفہ لیں اور جلد کی نمی برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کریں۔

جلد کو نمی فراہم کرنا کیوں ضروری ہے؟

گرمیوں میں اے سی، گرم ہوا اور نمک والا پانی جلد کی بیرونی تہہ کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس لیے سیرامائیڈز، ہیالورونک ایسڈ اور پینتھینول جیسے اجزا کا استعمال ضروری ہے۔

ریٹینول لگانے سے پہلے اور بعد میں ہلکے موسچرائزر کی تہہ جلد کو جلن اور کھنچاؤ سے بچاتی ہے، جس سے ریٹینول کے فوائد بغیر کسی مضر اثرات کے حاصل ہوتے ہیں۔

گرمیوں میں ریٹینول کا استعمال اور سورج کی شعاعوں سے جلد کی حفاظت کا طریقہ
جلد پر جلن یا خشکی محسوس ہو تو کچھ دن کا وقفہ لیں اور جلد کی نمی برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کریں (فوٹو: انٹرنیٹ)

کب ریٹینول کا استعمال روک دینا چاہیے؟

جلد کا ہلکا سا خشک ہونا یا سرخی آنا معمول کا حصہ ہے، لیکن اگر مسلسل جلن، تکلیف دہ چھلکے اترنا، شدید خارش یا سوجن محسوس ہو تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کریں۔

یہ علامات بتاتی ہیں کہ جلد کی حفاظتی تہہ کمزور پڑ چکی ہے یا ریٹینول کا ارتکاز ضرورت سے زیادہ ہے۔

گرمیوں میں ریٹینول کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اپنی جلد کی ضرورت اور موسم کے مطابق ردوبدل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ 

سورج سے تحفظ، بھرپور نمی اور اعتدال پسندی کے ساتھ ریٹینول گرم ترین موسم میں بھی آپ کی جلد کی تروتازگی اور صحت کو برقرار رکھنے میں ایک انتہائی مؤثر جزو ثابت ہو سکتا ہے۔