ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ اسے مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تہران کسی بھی دھمکی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
عراقچی کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود واشنگٹن نے مذاکرات جاری رکھنے کا پیغام بھیجا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے سے قبل تمام معاملات کا نہایت درست اور واضح ہونا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ابہام نہ رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے افزودہ یورینیم کے معاملے کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس نکتے کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کو واشنگٹن سے 14 نکاتی تصفیہ پیکج کا باقاعدہ جواب موصول ہو گیا ہے جس میں امریکی مطالبات تاحال موجود ہیں۔
اُدھر ایران نے بھی مذاکرات کے لیے اپنی 5 بنیادی شرائط پر سختی سے قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ان شرائط میں آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری تسلیم کرنا، بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا اٹھانا، نقصانات کا معاوضہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔
عباس عراقچی نے کسی بھی فوجی حل کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دو بار ایران کو آزما چکا ہے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دباؤ کام نہیں آئے گا۔
انہوں نے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو واشنگٹن کے اپنے سابقہ دعووں کے متضاد قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی کارروائیوں کی دھمکی اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کی تیاریوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ کچھ قوتیں امریکہ کو دوبارہ جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے نازک جنگ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے بعد 7 اپریل کو پاکستانی ثالثی سے عارضی فائر بندی ہوئی تھی۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ راستہ تمام ممالک کے لیے کھلا ہے، سوائے ان کے جو ایران کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی فوج کے ساتھ کوآرڈینیشن کرنا ہو گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ جارحیت کے خاتمے کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلطنت عمان کے ساتھ مل کر محفوظ جہاز رانی کے انتظامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کے عزم کو بھی ایک بار پھر دہرایا۔