اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ہانٹا وائرس کا خوف! کیا دنیا دوبارہ کسی بڑی وبا کی جانب جا رہی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ہانٹا وائرس کا خوف اور انسانی صحت پر اس کے اثرات کا خاکہ
ہانٹا وائرس کی گردش کرتی تصاویر اور خبریں عوام میں اضطراب اور عدم تحفظ کی لہر پیدا کر رہی ہیں (فوٹو: اے آئی)

ہانٹا وائرس کے بڑھتے خوف نے سوال پیدا کردیے ہیں کہ کیا دنیا ایک بار پھر کسی بڑی وبا کی جانب بڑھ رہی ہے؟

مزید پڑھیں

ماہرین صحت نے تصدیق کی ہے کہ ہانٹا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال بہت محدود ہے، تاہم دنیا بھر میں اس سے متعلق گردش کرتی تصاویر اور خبریں عوام میں اضطراب و عدم تحفظ پیدا کر رہی ہیں۔ 

طبی ماہرین کے مطابق اس خوف کی بنیادی وجہ وائرس کی نوعیت کو نہ سمجھ پانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ہانٹا وائرس کے پھیلاؤ کا موازنہ کورونا وبا کے ابتدائی ایام سے کر رہے ہیں۔ 

کورونا کے دوران حفاظتی لباس اور ماسک پہننے کے مناظر لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ یہی تصاویر اب دوبارہ سامنے آنے پر عوام میں پرانے خوف کو بیدار کر رہی ہیں۔

وبا کی یاد

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ 10 برس سے زائد عمر کا ہر فرد کورونا وبا کی تلخ یادوں کا شکار ہے۔

ہر انسان کے پاس اس وبا سے جڑی کوئی نہ کوئی جذباتی کہانی موجود ہے۔ یہی اجتماعی یادداشت اب ہانٹا وائرس کے معاملے میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

ہانٹا وائرس کا خوف اور انسانی صحت پر اس کے اثرات کا خاکہ
طبی ماہرین کے مطابق اس خوف کی بنیادی وجہ وائرس کی نوعیت کو نہ سمجھ پانا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

خوف، خشیت اور کنٹرول کا فقدان

نفسیاتی ماہرین کے مطابق خوف اور خشیت میں فرق ہے۔ خوف ایک مبہم احساس ہے، جبکہ خشیت کسی مخصوص خطرے سے جڑی ہوتی ہے۔

ہانٹا وائرس کے معاملے میں لوگ اس لیے پریشان ہیں کیونکہ یہ ایک غیر مرئی اور نادیدہ خطرہ ہے، جس پر قابو پانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

شخصیت اور جذباتی اثرات

جن افراد کی شخصیت میں ’نیوروٹیسزم‘ یا اعصابی تناؤ کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، وہ منفی خبروں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ شک، خوف اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار زیادہ رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وبا جیسی خبریں ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالتی ہیں اور وہ جلد ہمت ہار جاتے ہیں۔

جذباتی منتقلی

منفی جذبات جیسے غصہ، اداسی اور مایوسی انسانوں میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔ یہ جذباتی منتقلی اکثر خودکار اور غیر محسوس انداز میں ہوتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ مثبت خیالات کی نسبت منفی احساسات ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہونے کا عمل زیادہ تیز اور مؤثر ہوتا ہے۔

ہانٹا وائرس کا خوف اور انسانی صحت پر اس کے اثرات کا خاکہ
کورونا کے دوران حفاظتی لباس اور ماسک پہننے کے مناظر لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

خبروں کی پیشکش اور ابلاغ کا مسئلہ

عوام کو ٹھوس اور بصری معلومات زیادہ متاثر کرتی ہیں، جبکہ سائنسدان اکثر پیچیدہ اور غیر واضح اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

اگر کوئی ماہرِ وائرس اپنی بات کو سادہ انداز میں نہ سمجھا سکے تو اس سے تسلی ملنے کے بجائے عوام میں مزید تشویش اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

خوف کے وائرس سے بچنے کا طریقہ

ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہانٹا وائرس سے متعلق خبروں پر مسلسل نظر رکھنے سے گریز کیا جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر حد سے زیادہ انحصار ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے۔ اپنے قریبی دوستوں اور ساتھیوں سے اس موضوع پر کھل کر بات کرنا ذہنی سکون اور توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ خوف سائنسی حقائق سے زیادہ انسانی نفسیات کا عکاس ہے۔ 

ہانٹا وائرس کے معاملے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مستند معلومات پر انحصار کیا جائے اور جذباتی ہیجان سے دُور رہ کر معاملات کا منطقی اور متوازن تجزیہ کیا جائے تاکہ غیر ضروری گھبراہٹ سے بچا جا سکے۔