دنیا بھر میں ماہرین کے نزدیک یہ سوال ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے کہ علمی ترقی اور کتابوں کی بھرمار کے باوجود ہمارے سماجی رویوں میں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟
مزید پڑھیں
الجزیرہ پر شائع عبد اللہ الزہرانی کے حالیہ مضمون میں اس نفسیاتی اور سماجی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
1. بچپن کا ادھورا سوال
مصنف اپنے بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہیں جب چوتھی جماعت میں انہوں نے ایک حدیث پڑھی کہ ’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے 3 دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے‘۔
وہ اس وقت اپنے ایک دوست سے ناراض تھے اور توقع کر رہے تھے کہ استاد صرف یہ سبق ہی نہیں پڑھائیں گے بلکہ کلاس میں صلح بھی کروائیں گے۔
مگر ایسا نہیں ہوا، اور یہیں سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کتابی دنیا اور حقیقی زندگی اتنی الگ کیوں ہیں؟
2. معاشرتی تضادات کی چند مثالیں
رپورٹ میں روزمرہ زندگی سے ایسی کئی مثالیں دی گئی ہیں جو ہمارے دوغلے پن کی نشاندہی کرتی ہیں:
- مذہبی مقامات: مسجد کے باہر ’جوتے اسٹینڈ پر رکھیں‘ لکھا ہوتا ہے، مگر اسٹینڈ خالی ہوتا ہے اور جوتے زمین پر بکھرے ہوتے ہیں۔
- طبی ہدایات: دواؤں کے ساتھ دی گئی ہدایات (Leaflet) کو پڑھے بغیر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔
- سڑکوں پر رویے: گاڑی کے پیچھے ’صبر جمیل‘ لکھنے والا ڈرائیور اکثر ٹریفک میں سب سے زیادہ بے صبرا پایا جاتا ہے۔
- پیشہ ورانہ زندگی: سی وی (CV) پر ’دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت‘ لکھنے والا ملازم عملی میدان میں جلد ہمت ہار دیتا ہے۔
3. نعروں اور نصیحتوں کی اہمیت
مصنف کے مطابق تحریری نعروں اور دیواروں پر لکھی نصیحتوں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں کسی رول ماڈل کی ضرورت ہے۔ ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھنا ہوگا کہ:
- جو شخص کسی کو راستہ دیتا ہے، وہ اصل میں ’صبر‘ کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔
- صفائی کا نظام عملاً بہتر بنانا ’صفائی نصف ایمان ہے‘ کے بورڈ لگانے سے زیادہ موثر ہے۔
انہوں نے لکھا کہ نبی کریمﷺ کی زندگی ’چلتا پھرتا قرآن ‘ تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قول اور فعل کا فاصلہ ختم ہو جاتا ہے۔
اس تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ الفاظ اس وقت تک بے جان رہتے ہیں جب تک انہیں عمل کی روح نہ دی جائے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں وہ سب کچھ سیکھیں جو ہم انہیں پڑھاتے ہیں، تو ہمیں نعروں کے بجائے عمل کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔
ہمیں اپنی بائیو یا سوشل میڈیا پروفائل پر بلند بانگ دعوے لکھنے کے بجائے خاموش عمل کو اپنی پہچان بنانا ہوگا، کیونکہ معاشرہ تحریر سے نہیں، تصویر (کردار) سے بدلتا ہے۔