افغانستان میں زعفران کی کاشت اب صرف ایک موسمی زرعی سرگرمی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مربوط معاشی نظام بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں
ہرات کے کھیتوں میں صبح سویرے توڑی جانے والی یہ قیمتی فصل، اب بین الاقوامی تجارتی چین کا ایک اہم حصہ بن کر ابھر رہی ہے۔
افغان وزارت زراعت و لائیو سٹاک کے ترجمان شیر محمد حاتمی کے مطابق زعفران ملک کی اہم ترین برآمدی فصلوں میں سے ایک ہے۔
اس کی سالانہ 40 ٹن پیداوار کا بڑا حصہ ہرات سے حاصل ہوتا ہے اور اب اس کی کاشت دیگر صوبوں تک بھی پھیلائی جارہی ہے۔
اعداد و شمار اور عالمی منڈی
سال 2025 کے دوران افغانستان نے 56 ٹن زعفران برآمد کیا، جس کی مالیت تقریباً 54 ملین ڈالر رہی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغان زعفران کی مانگ یورپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا جیسی نئی اور اہم عالمی منڈیوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
عالمی مسابقت اور ایران کا کردار
روایتی طور پر عالمی منڈی پر ایران کا غلبہ ہے جو سالانہ 400 ٹن یعنی کل پیداوار کا 90 فیصد پیدا کرتا ہے۔
تاہم حالیہ عرصے میں سپلائی چین اور تجارتی روابط میں رکاوٹوں کے باعث خریداروں نے افغانستان کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے افغان برآمد کنندگان کے لیے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
مقامی معیشت پر اثرات
زعفران کی کاشت ہرات کے دیہی علاقوں کے مکینوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہے۔
کسان عبدالحکیم عطائی کے مطابق فصل کی کٹائی، چھانٹی اور خشک کرنے کے مراحل انتہائی محنت طلب ہیں، جس سے دیہی آبادی کو بڑے پیمانے پر موسمی روزگار اور آمدنی کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔
زعفران برآمد کرنے والی کمپنیوں کے مطابق ایران سے تجارتی راستوں میں مشکلات کے باعث عالمی خریدار اب افغانستان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
عبداللہ خیراندیش اور نثار احمد عطائی جیسے برآمد کنندگان نے تصدیق کی ہے کہ کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ سے ملنے والے آرڈرز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
افغان زعفران ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 2 ماہ میں برآمدات میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرہاد اُمید نے ایرانی زعفران کی ری ایکسپورٹ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغان زعفران اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اور تمام برآمدات سخت ضوابط کے تحت ہوتی ہیں۔
ماہرین کا نقطہ نظر
معاشی ماہر نعمت اللہ خبیب کے مطابق زعفران کی عالمی مارکیٹ سپلائی چین کی تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔
موجودہ صورتحال کوئی تزویراتی تبدیلی نہیں بلکہ عارضی طور پر تجارتی راستوں کی ایڈجسٹمنٹ ہے، جہاں درآمد کنندگان لاجسٹک مسائل سے بچنے کے لیے اپنے ذرائع کو متنوع بنا رہے ہیں۔
افغانستان کے لیے زعفران کی عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔
تاہم اس کامیابی کا انحصار ایکسپورٹ چین کے استحکام، بنیادی انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے پر ہے۔ عالمی منڈی کا مستقبل ان اقتصادی عوامل اور سپلائی چین کی شفافیت سے جڑا ہوا ہے۔