اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

فرضی سعودائزیشن پر سخت کارروائی کا انتباہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جعلی سعودائزیشن
کمپنیوں کو ہدایت دی گئی کہ رجسٹرڈ سعودی ملازمین کے حقیقی اور مستقل کام کی تصدیق کریں

سعودی وزارتِ ہیومن ریسورسز نے نجی شعبے کی ان کمپنیوں کے خلاف نگرانی اور جانچ کا دائرہ مزید سخت کردیا ہے جن کے بارے میں ’فرضی سعودائزیشن‘ کے شبہات سامنے آئے ہیں۔ 

وزارت کی جانب سے جاری انتباہی پیغامات میں واضح کیا گیا ہے کہ ابتدائی ڈیجیٹل نگرانی، ملازمین کے ریکارڈ، تنخواہوں، حاضری اور عملی کام کے ڈیٹا کے ذریعے بعض اداروں میں غیر معمولی اشارے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کچھ سعودی شہری صرف کاغذی طور پر ملازم ظاہر کئے جارہے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ کام نہیں کر رہے۔

مزید پڑھیں

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت نے ان اداروں کو فوری طور پر اپنے ملازمین کے ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لینے، حقیقی ملازمت اور عملی حاضری کو یقینی بنانے اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کو جلد درست کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 

وزارت کے مطابق ماضی میں بھی ایسے متعدد اداروں کو ابتدائی طور پر صرف انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے مگر بعد میں تحقیقات کے دوران خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں، جس کے نتیجے میں سخت سزائیں نافذ کی گئیں۔

’فرضی سعودائزیشن‘ سے مراد وہ عمل ہے جس میں کمپنی کسی سعودی شہری کو صرف سرکاری ریکارڈ میں ملازم ظاہر کرتی ہے تاکہ سعودائزیشن کے اہداف پورے کئے جاسکیں لیکن حقیقت میں وہ شخص ادارے میں عملی طور پر کام نہیں کرتا۔ 

ChatGPT Image 12 مايو 2026، 12 59 21 م
اداروں کو ریکارڈ اور ملازمتوں کی اصلاح کا مشورہ

بعض اوقات ملازمین کو محدود یا علامتی تنخواہ دے کر صرف قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، جبکہ اصل کام غیر ملکی کارکن انجام دیتے ہیں۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے اس انتباہ کے باوجود اپنی صورتحال درست نہیں کرتے تو انہیں بیک وقت دو بڑی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

پہلی سزا ’نطاقات‘ پروگرام سے اخراج ہوگی، جس کے نتیجے میں کمپنی کو نئی ورک ویزا سہولیات، ملازمین کے انتقالِ خدمات اور دیگر حکومتی مراعات سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانونی جرمانے
اور سزائیں بھی
نافذ کی جائیں گی

 دوسری جانب مالی جرمانے اور دیگر قانونی سزائیں بھی نافذ کی جائیں گی، جن میں بعض صورتوں میں ادارے کی سرگرمیوں پر پابندیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام صرف سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ لیبر مارکیٹ کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے کیا جارہا ہے، تاکہ سعودی شہریوں کے لیے حقیقی ملازمت کے مواقع پیدا ہوں اور سعودائزیشن پروگرام کے اصل اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
وزارت نے اداروں اور ملازمین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنے سرکاری موبائل ایپلی کیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شکایات، وضاحتوں اور خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کی سہولت بھی فعال رکھی ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری نشاندہی اور نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔