اہم خبریں
11 May, 2026
--:--:--

اسمارٹ فون کو آپ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسمارٹ فون اور ڈپریشن
اسمارٹ فون ڈیٹا سے ڈپریشن کی شناخت کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں

جدید تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز انسان کی ذہنی کیفیت اور ڈپریشن کی ابتدائی علامات کا اندازہ لگانے کے قابل ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کے استعمال کا دورانیہ، لوکیشن، نیند کے پیٹرنز اور ٹائپنگ انداز جیسے ڈیٹا کے ذریعے ڈپریشن کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس ٹیکنالوجی نے پرائیویسی اور ڈیٹا کے غلط استعمال سے متعلق نئے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ اب ہم وہ چیزیں حقیقت میں دیکھ رہے ہیں جو کبھی صرف سائنس فکشن فلموں میں دکھائی دیتی تھیں۔ 

اب شاید سب سے حیران کن تصور یہ ہے کہ آپ کا اسمارٹ فون آپ کے موڈ اور ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکے بلکہ ڈپریشن کی ابتدائی علامات کو اس وقت پکڑ لے جب آپ خود بھی انہیں محسوس نہ کر پائیں۔ 

یہ بات اگرچہ سائنس فکشن جیسی لگتی ہے، مگر ’ڈیجیٹل فینوٹائپنگ‘ کے میدان میں یہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی یونیورسٹی نارتھ ویسٹرن میڈیسن کی ایک چھوٹی تحقیق کے مطابق، اسمارٹ فون کے سینسرز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے ذریعے ڈپریشن کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔ 

اس تحقیق میں فون کے استعمال کے دورانیے اور روزانہ کی جغرافیائی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔

ویب سائٹ EurekAlert کے مطابق جتنا زیادہ وقت کوئی شخص اپنے 

فون پر گزارتا ہے، اس کے ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔ 

تحقیق میں ڈپریشن کے شکار افراد روزانہ اوسطاً 68 منٹ فون استعمال کرتے پائے گئے، جبکہ غیر متاثرہ افراد کا اوسط صرف 17 منٹ تھا۔

female having depression sitting alone in bedroom 2026 01 08 06 38 07 utc
ڈپریشن کے شکار افراد فون زیادہ دیر استعمال کرتے پائے گئے

سادہ الفاظ میں ’ڈیجیٹل فینوٹائپنگ‘ سے مراد یہ ہے کہ ذاتی ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے انسان کے رویوں اور عادات کا تجزیہ کر کے اس کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اس اصطلاح کو متعارف کروایا، جس کا مطلب ہے: ڈیجیٹل ذاتی آلات کے ڈیٹا کے ذریعے ہر لمحہ انسان کے رویوں اور کیفیت کی انفرادی سطح پر پیمائش۔

یعنی یہ نظام مسلسل اسمارٹ فونز، پہننے کے قابل ڈیوائسز اور دیگر آلات سے ڈیجیٹل نشانات جمع کرتا رہتا ہے تاکہ انسان کی روزمرہ سرگرمیوں، جذبات اور سوچ کے انداز کی تفصیلی تصویر تیار کی جا سکے۔ 

ڈیجیٹل فینوٹائپنگ
کے ذریعے
رویوں اور ذہنی
کیفیت کا
تجزیہ ممکن ہے

ہر کلک، اسکرول، قدم یا ٹیکسٹ پیغام ایک چھوٹے ڈیٹا پوائنٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ 
وقت گزرنے کے ساتھ یہی ڈیٹا مل کر ایک منفرد ’ڈیجیٹل فینوٹائپ‘ بناتا ہے، جو کسی فرد کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کر سکتا ہے۔
ویب سائٹ Psychology Today کے مطابق، آپ کا فون آپ کی نیند کے پیٹرنز کو غیر فعالیت کے وقفوں سے مانیٹر کرتا ہے، سماجی تنہائی کا اندازہ کالز کی تعداد سے لگاتا ہے، جبکہ لوکیشن انڈیکس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ زیادہ وقت گھر میں محدود رہتے ہیں یا مختلف مقامات پر جاتے ہیں۔
یہاں تک کہ ٹائپنگ کی رفتار اور ایپس کے استعمال کا انداز بھی ڈپریشن کی علامات سے جوڑا جا چکا ہے، جیسا کہ متعدد ڈیجیٹل ہیلتھ جرائد میں شائع ہونے والی تحقیقات میں بتایا گیا۔

یہ سب کچھ کسی حد تک آپ کی موسیقی کی پسند کا تجزیہ کرنے جیسا ہے مگر یہاں آپ کے میوزک ٹیسٹ کے بجائے آپ کی نفسیاتی کمزوریوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔

ڈیٹا بروکرز ان رویہ جاتی اشاریوں کو خریدتے اور فروخت کرتے ہیں اور اشتہاری کمپنیوں کو آپ کے جذباتی پیٹرنز فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ کمزور لمحات میں آپ کو ہدف بنا سکیں۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مستقبل میں انشورنس کمپنیاں اور آجر ذہنی صحت سے متعلق اندازہ شدہ ڈیٹا کو ’رسک اسیسمنٹ‘ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ 

woman using phone in dimly lit bedroom 2026 03 24 05 59 15 utc
ٹائپنگ کی رفتار اور ایپس کے استعمال کو بھی ذہنی صحت سے جوڑا گیا

اگرچہ ابھی بڑے پیمانے پر امتیازی استعمال کے واضح شواہد محدود ہیں، لیکن پرائیویسی ماہرین کے مطابق یہ رجحان تقریباً ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

ویب سائٹ GadgetReview کے مطابق، یہ معلومات مستقبل میں ایسے افراد کی نگرانی کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں جو ڈپریشن کے خطرے سے دوچار ہوں تاکہ اگر سینسرز علامات پکڑ لیں تو انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے یا ان کے ڈاکٹروں کو آگاہ کیا جا سکے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی آئندہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لیں گی کہ آیا ڈپریشن سے منسلک رویوں میں تبدیلی لا کر انسان کے موڈ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ویب سائٹ MentalHealthMN کے مطابق ایک ماہر نے کہا:

ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا لوگوں کو زیادہ مقامات پر جانے، روزمرہ معمولات کو منظم رکھنے، مختلف جگہوں پر زیادہ وقت گزارنے یا موبائل فون کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے کر ڈپریشن کی علامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

بشکریہ: العربیہ