جدید تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز انسان کی ذہنی کیفیت اور ڈپریشن کی ابتدائی علامات کا اندازہ لگانے کے قابل ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کے استعمال کا دورانیہ، لوکیشن، نیند کے پیٹرنز اور ٹائپنگ انداز جیسے ڈیٹا کے ذریعے ڈپریشن کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس ٹیکنالوجی نے پرائیویسی اور ڈیٹا کے غلط استعمال سے متعلق نئے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
ڈیجیٹل فینوٹائپنگ
کے ذریعے
رویوں اور ذہنی
کیفیت کا
تجزیہ ممکن ہے
ہر کلک، اسکرول، قدم یا ٹیکسٹ پیغام ایک چھوٹے ڈیٹا پوائنٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہی ڈیٹا مل کر ایک منفرد ’ڈیجیٹل فینوٹائپ‘ بناتا ہے، جو کسی فرد کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کر سکتا ہے۔
ویب سائٹ Psychology Today کے مطابق، آپ کا فون آپ کی نیند کے پیٹرنز کو غیر فعالیت کے وقفوں سے مانیٹر کرتا ہے، سماجی تنہائی کا اندازہ کالز کی تعداد سے لگاتا ہے، جبکہ لوکیشن انڈیکس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ زیادہ وقت گھر میں محدود رہتے ہیں یا مختلف مقامات پر جاتے ہیں۔
یہاں تک کہ ٹائپنگ کی رفتار اور ایپس کے استعمال کا انداز بھی ڈپریشن کی علامات سے جوڑا جا چکا ہے، جیسا کہ متعدد ڈیجیٹل ہیلتھ جرائد میں شائع ہونے والی تحقیقات میں بتایا گیا۔
یہ سب کچھ کسی حد تک آپ کی موسیقی کی پسند کا تجزیہ کرنے جیسا ہے مگر یہاں آپ کے میوزک ٹیسٹ کے بجائے آپ کی نفسیاتی کمزوریوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔
ڈیٹا بروکرز ان رویہ جاتی اشاریوں کو خریدتے اور فروخت کرتے ہیں اور اشتہاری کمپنیوں کو آپ کے جذباتی پیٹرنز فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ کمزور لمحات میں آپ کو ہدف بنا سکیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مستقبل میں انشورنس کمپنیاں اور آجر ذہنی صحت سے متعلق اندازہ شدہ ڈیٹا کو ’رسک اسیسمنٹ‘ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ابھی بڑے پیمانے پر امتیازی استعمال کے واضح شواہد محدود ہیں، لیکن پرائیویسی ماہرین کے مطابق یہ رجحان تقریباً ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
ویب سائٹ GadgetReview کے مطابق، یہ معلومات مستقبل میں ایسے افراد کی نگرانی کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں جو ڈپریشن کے خطرے سے دوچار ہوں تاکہ اگر سینسرز علامات پکڑ لیں تو انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے یا ان کے ڈاکٹروں کو آگاہ کیا جا سکے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی آئندہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لیں گی کہ آیا ڈپریشن سے منسلک رویوں میں تبدیلی لا کر انسان کے موڈ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ویب سائٹ MentalHealthMN کے مطابق ایک ماہر نے کہا:
ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا لوگوں کو زیادہ مقامات پر جانے، روزمرہ معمولات کو منظم رکھنے، مختلف جگہوں پر زیادہ وقت گزارنے یا موبائل فون کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے کر ڈپریشن کی علامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔