اہم خبریں
12 May, 2026
--:--:--

ڈیجیٹل تعلیم پر سوالات، سویڈن نے دوبارہ کاغذی کتابوں کا رخ کر لیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ڈیجیٹل تعلیم
آن لائن پڑھائی سرسری مطالعے کو فروغ دیتی ہے جبکہ گہری سمجھ متاثر ہوتی ہے

کلاس رومز میں دوبارہ کاغذی کتابیں متعارف کرانے کے سوئیڈن کے فیصلے نے اس بات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ اسکرینز تعلیم اور سیکھنے کے عمل کو کس حد تک متاثر کرتی ہیں۔

سویڈش حکومت نے اس اقدام کی وجہ طلبہ کے امتحانی نتائج میں کمی اور ڈیجیٹل آلات پر بڑھتے ہوئے وقت کو قرار دیا ہے۔

ویب سائٹ The Conversation کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی Macquarie University سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ نفسیات ایرک ڈی رائشل اور لیلی یو کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف اسکرین نہیں بلکہ اسکرین کی نوعیت اور ڈیجیٹل مواد پیش کرنے کے انداز میں ہے۔

schoolboys working together with tablet computer 2026 03 10 03 14 24 utc
سوئیڈن نے تعلیمی نتائج میں کمی کے بعد کلاس رومز میں دوبارہ کاغذی کتابوں کے استعمال کا فیصلہ کیا

ماہرین کے مطابق مطالعہ انسانی دماغ کی پیچیدہ ترین مہارتوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اس میں بصری ادراک، توجہ، زبان کی پروسیسنگ اور آنکھوں کی حرکت کے درمیان نہایت باریک ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس نظام میں معمولی خلل بھی سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

مسئلہ صرف
اسکرین نہیں
بلکہ مواد
دکھانے کا
طریقہ بھی ہے

رپورٹ کے مطابق مطالعے کے دوران آنکھیں تیز رفتار حرکتوں کے ذریعے الفاظ پر منتقل ہوتی ہیں، جنہیں ’ساکیڈز‘ کہا جاتا ہے جبکہ معلومات مختصر وقفوں میں پروسیس ہوتی ہیں جنہیں ’فکسیشنز‘ کہا جاتا ہے۔
انہی لمحات میں دماغ محدود مقدار میں بصری معلومات کو جذب کر پاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دماغ کو بصری سگنلز منتقل کرنے میں تقریباً 60 ملی سیکنڈ درکار ہوتے ہیں، جبکہ الفاظ کو پہچاننے کے لیے مزید 100 سے 300 ملی سیکنڈ لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کی قدرتی رفتارِ مطالعہ تقریباً 300 سے 400 الفاظ فی منٹ کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین نے ’اسپیڈ ریڈنگ‘ یا تیز رفتار مطالعے کی تکنیکوں سے بھی خبردار کیا ہے، ان کے مطابق یہ طریقے عموماً متن کو سرسری طور پر دیکھنے پر انحصار کرتے ہیں، جس سے گہری سمجھ متاثر ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ مطالعے کے لیے تیار کئے گئے مخصوص الیکٹرانک آلات، جیسے تعلیمی ٹیبلیٹس، کسی حد تک کاغذی کتابوں سے مشابہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں متن نسبتاً منظم اور سادہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاہم اصل مسئلہ اسمارٹ فونز اور ایسے ڈیجیٹل ماحول میں سامنے آتا ہے جہاں اشتہارات، نوٹیفکیشنز اور دیگر بصری عناصر مسلسل توجہ بٹاتے رہتے ہیں۔

elementary school students working at desks with t 2026 03 26 11 52 06 utc
اشتہارات اور نوٹیفکیشنز طلبہ کی توجہ کمزور کرتے ہیں

رپورٹ میں کہا گیا کہ متن سے غیر متعلق تصاویر، آوازیں اور پاپ اپ اشتہارات قاری کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں اور ارتکاز کو کمزور کرتے ہیں، خاص طور پر بچوں میں، کیونکہ وہ ابھی توجہ بٹانے والے عوامل کو نظر انداز کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔

آنکھوں کی حرکت پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ پر پڑھنے کا انداز عموماً ’سرسری فہم‘ کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ گہرائی سے مطالعہ کم ہو جاتا ہے، جو طویل المدتی فہم اور تنقیدی سوچ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

کورونا کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا، جب دنیا بھر کے تعلیمی ادارے بڑی حد تک ڈیجیٹل تعلیم کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ 

students engaging with tablets at a table 2026 03 18 07 03 41 utc
آن لائن پڑھائی سرسری مطالعے کو فروغ دیتی ہے جبکہ گہری سمجھ متاثر ہوتی ہے

اب سائنس دان آنکھوں کی حرکت کو ٹریک کرنے والی نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں تاکہ کاغذی اور ڈیجیٹل مطالعے کے اثرات کا زیادہ درست موازنہ کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت صرف تعلیمی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق سماجی حیثیت، معاشی مواقع اور مجموعی معیارِ زندگی سے بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل مطالعے کے اثرات کا جائزہ لینا ایک نہایت اہم تعلیمی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے