مسئلہ صرف
اسکرین نہیں
بلکہ مواد
دکھانے کا
طریقہ بھی ہے
رپورٹ کے مطابق مطالعے کے دوران آنکھیں تیز رفتار حرکتوں کے ذریعے الفاظ پر منتقل ہوتی ہیں، جنہیں ’ساکیڈز‘ کہا جاتا ہے جبکہ معلومات مختصر وقفوں میں پروسیس ہوتی ہیں جنہیں ’فکسیشنز‘ کہا جاتا ہے۔
انہی لمحات میں دماغ محدود مقدار میں بصری معلومات کو جذب کر پاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دماغ کو بصری سگنلز منتقل کرنے میں تقریباً 60 ملی سیکنڈ درکار ہوتے ہیں، جبکہ الفاظ کو پہچاننے کے لیے مزید 100 سے 300 ملی سیکنڈ لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کی قدرتی رفتارِ مطالعہ تقریباً 300 سے 400 الفاظ فی منٹ کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین نے ’اسپیڈ ریڈنگ‘ یا تیز رفتار مطالعے کی تکنیکوں سے بھی خبردار کیا ہے، ان کے مطابق یہ طریقے عموماً متن کو سرسری طور پر دیکھنے پر انحصار کرتے ہیں، جس سے گہری سمجھ متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مطالعے کے لیے تیار کئے گئے مخصوص الیکٹرانک آلات، جیسے تعلیمی ٹیبلیٹس، کسی حد تک کاغذی کتابوں سے مشابہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں متن نسبتاً منظم اور سادہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاہم اصل مسئلہ اسمارٹ فونز اور ایسے ڈیجیٹل ماحول میں سامنے آتا ہے جہاں اشتہارات، نوٹیفکیشنز اور دیگر بصری عناصر مسلسل توجہ بٹاتے رہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ متن سے غیر متعلق تصاویر، آوازیں اور پاپ اپ اشتہارات قاری کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں اور ارتکاز کو کمزور کرتے ہیں، خاص طور پر بچوں میں، کیونکہ وہ ابھی توجہ بٹانے والے عوامل کو نظر انداز کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔
آنکھوں کی حرکت پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ پر پڑھنے کا انداز عموماً ’سرسری فہم‘ کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ گہرائی سے مطالعہ کم ہو جاتا ہے، جو طویل المدتی فہم اور تنقیدی سوچ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
کورونا کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا، جب دنیا بھر کے تعلیمی ادارے بڑی حد تک ڈیجیٹل تعلیم کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔
اب سائنس دان آنکھوں کی حرکت کو ٹریک کرنے والی نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں تاکہ کاغذی اور ڈیجیٹل مطالعے کے اثرات کا زیادہ درست موازنہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت صرف تعلیمی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق سماجی حیثیت، معاشی مواقع اور مجموعی معیارِ زندگی سے بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل مطالعے کے اثرات کا جائزہ لینا ایک نہایت اہم تعلیمی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔