سائبر کرائم کی دنیا میں ایک غیر معمولی اور تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جس میں ہیکرز نے ایک دوسرے کے شکار کردہ سسٹمز پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ڈیجیٹل جرائم پیشہ گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی باہمی مسابقت کو ظاہر کرتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی سینٹینل ون کی رپورٹ کے مطابق ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے ’ٹیم پی سی پی‘ (TeamPCP) نامی گروہ کے پہلے سے متاثرہ سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔
حملہ آوروں نے نہ صرف اصل ہیکرز کو سسٹم سے بے دخل کر دیا بلکہ
ان کے آلات کو بھی مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیا۔
حملہ آوروں کی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی
اس نئی مہم کو ماہرین نے ’پی سی پی جیک‘ (PCPJack) کا نام دیا ہے۔
یہ گروپ سسٹمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایسے نقصان دہ کوڈز پھیلاتا ہے جو ’الیکٹرانک ورمز‘ کی طرح کلاؤڈ انفرا اسٹرکچر میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ صارف کی خفیہ معلومات اور پاس ورڈز بھی چوری کر لیتے ہیں۔
ٹیم پی سی پی اور ہائی پروفائل حملے
واضح رہے کہ ٹیم پی سی پی حالیہ ہفتوں میں کافی سرگرم رہا ہے۔
اس گروپ پر یورپی کمیشن کے کلاؤڈ انفرا اسٹرکچر اور ’ٹریوی‘ (Trivvy) نامی سیکیورٹی اسکیننگ ٹول پر حملوں کا الزام ہے۔ ان واقعات نے ’لائٹ ایل ایل ایم‘ اور ’مرکور‘ جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
حملہ آور کون ہیں؟
سینٹینل ون کی محقق ایلکس ڈیلاموٹ کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت ابھی راز ہے۔
قوی امکان ہے کہ یا تو یہ گروپ کے اس کے سابق ناراض ارکان ہیں، کوئی حریف گروہ ہے، یا پھر ایسے ہیکرز جنہوں نے ٹیم پی سی پی کی تکنیکوں کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں کاپی کیا ہے۔
مالی مفادات اور اہداف
اس مہم کا بنیادی مقصد خالصتاً مالی منافع ہے۔ حملہ آور چوری شدہ ڈیٹا فروخت کرتے ہیں یا ’انیشل ایکسیس بروکرز‘ کے ذریعے متاثرہ سسٹمز تک رسائی دوبارہ بیچ دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گروپ کرپٹو کرنسی مائننگ کے بجائے براہ راست ڈیٹا چوری اور بھتہ خوری کو ترجیح دے رہا ہے۔
سیکیورٹی خطرات کا پھیلاؤ
اگرچہ اس گروپ کا مرکزی ہدف ٹیم پی سی پی کے متاثرین ہیں۔
یہ ہیکرز انٹرنیٹ پر کمزور سیکیورٹی والے ڈوکر (Docker) پلیٹ فارمز اور مونگو ڈی بی (MongoDB) ڈیٹا بیس کو بھی مسلسل تلاش کر رہے ہیں تاکہ اپنے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ سسٹمز تک رسائی حاصل کر سکیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد اب صرف کمپنیوں کو نہیں بلکہ ایک دوسرے کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز کے درمیان یہ جنگ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اداروں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔