ایران نے
ہرمز میں
نئی بحری
حکمت عملی
متعارف کر دی
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ابھی مکمل جنگی کشیدگی کا آغاز نہیں کیا اور امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاہم وہ کھلی جنگ سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تبدیلی تنازع کے بنیادی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس کی شدت میں آئی ہے۔
امریکا نے جارحانہ کارروائیاں روک دی ہیں جبکہ ایران نے بھی مکمل کشیدگی سے گریز کیا ہے، لیکن دونوں فریق بدستور دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا صرف ایک دور ہوا ہے اور ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم پاکستان کی ثالثی اور ایران کی چین کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مذاکراتی راستہ ابھی کھلا ہوا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ایک طرح سے ’دوبارہ صف بندی‘ ہے، جس میں دونوں فریق وقتی طور پر کشیدگی کم کر کے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں ایک طرف وہ ایران پر سخت دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ کسی بڑی جنگ سے بھی گریز کرنا چاہتے ہیں۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کو دو مشکل راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے: یا تو وہ فوجی کارروائی کے ذریعے سخت ردعمل دیں، جس سے جنگ بھڑک سکتی ہے، یا سفارتی راستہ اپنائیں، جس سے کمزوری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
یوں موجودہ صورتحال ایک نازک توازن پر کھڑی ہے، جہاں وقتی سکون کے باوجود مستقبل غیر یقینی ہے، اور سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا سفارتکاری اس عارضی وقفے کو مستقل امن میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔