اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

پروجیکٹ فریڈم معطل، جنگ ختم: آخر دو دنوں میں کیا ہوا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پروجیکٹ فریڈم معطل
ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم منتقل کرنے پر تیار (فوٹو: العربیہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ معطل کرنے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس اعلان نے کہ ’آپریشن ایپک ریج‘ کے جنگی مراحل ختم ہو چکے ہیں، دو اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں: 

آخر دو دن میں ایسا کیا ہوا ہے؟ اور کیا یہ پیش رفت جنگ کے خاتمے کی طرف اشارہ ہے یا صرف ایک عارضی حکمت عملی؟

ٹرمپ نے پروجیکٹ فریڈم کو شروع ہونے کے محض دو دن بعد معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔ 

انہوں نے اس حوالے سے ’نمایاں پیش رفت‘ کا ذکر بھی کیا تاہم اس تعطل کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ عارضی ہے اور ایران پر عائد امریکی بحری محاصرہ بدستور برقرار رہے گا۔ 

ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ واشنگٹن نے وقتی طور پر 

آبنائے ہرمز کی عسکریت میں کمی کی ہے تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے، خصوصاً اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی کہ امریکا نے ’آپریشن ایپک ریج‘ کے جارحانہ مرحلے کو ختم کر کے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد خلیج میں پھنسے جہازوں کی مدد کرنا ہے تاہم اگر امریکی افواج پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ChatGPT Image 5 مايو 2026، 10 40 57 ص
امریکا دفاعی مرحلے میں داخل ہو گیا

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ امریکا بیک وقت کشیدگی کم کرنے اور عسکری برتری برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن ابھی فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچے۔

ادھر ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک نئی انتظامی حکمت عملی متعارف کروائی ہے، جو اس کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ایران نے
ہرمز میں
نئی بحری
حکمت عملی
متعارف کر دی

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ابھی مکمل جنگی کشیدگی کا آغاز نہیں کیا اور امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاہم وہ کھلی جنگ سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تبدیلی تنازع کے بنیادی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس کی شدت میں آئی ہے۔
امریکا نے جارحانہ کارروائیاں روک دی ہیں جبکہ ایران نے بھی مکمل کشیدگی سے گریز کیا ہے، لیکن دونوں فریق بدستور دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں مذاکرات کا صرف ایک دور ہوا ہے اور ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم پاکستان کی ثالثی اور ایران کی چین کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مذاکراتی راستہ ابھی کھلا ہوا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ایک طرح سے ’دوبارہ صف بندی‘ ہے، جس میں دونوں فریق وقتی طور پر کشیدگی کم کر کے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

46546546
پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی میں سرگرم (فوٹو: الجزیرہ)

بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں ایک طرف وہ ایران پر سخت دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ کسی بڑی جنگ سے بھی گریز کرنا چاہتے ہیں۔

اسی تناظر میں ٹرمپ کو دو مشکل راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے: یا تو وہ فوجی کارروائی کے ذریعے سخت ردعمل دیں، جس سے جنگ بھڑک سکتی ہے، یا سفارتی راستہ اپنائیں، جس سے کمزوری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔

یوں موجودہ صورتحال ایک نازک توازن پر کھڑی ہے، جہاں وقتی سکون کے باوجود مستقبل غیر یقینی ہے، اور سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا سفارتکاری اس عارضی وقفے کو مستقل امن میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔