گیانا کے صدر عرفان علی نے ہیوسٹن میں منعقدہ آئل ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران خبردار کیا ہے کہ دنیا تیزی سے دھاتی ایندھن (فوسل فیولز) سے نکل کر معدنیات پر مبنی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہرمز کے بحران کے دوران لیتھیم، تانبا اور کوبالٹ جیسے معدنیات اب عالمی سیاست کا نیا مرکز بن رہے ہیں۔
صدر عرفان علی نے کہا کہ یہ تبدیلی توانائی کے انحصار کو ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کی سمت تبدیل کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر ایران جنگ اور تیل کی بلند قیمتوں نے توانائی کے تحفظ کے حوالے سے ترجیحات کی ازسرنو ترتیب کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
توانائی کے توازن کا نیا تصور
انہوں نے بتایا کہ گیانا کی پالیسی توانائی کی منتقلی کے بجائے توانائی کے توازن پر مرکوز ہے۔
عرفان علی کے مطابق دنیا کو صرف ماحول دوست توانائی نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے ہر قسم کی توانائی کی بڑی مقدار میں دستیابی کی فوری ضرورت ہے۔
ہرمز میں بحری ٹریفک کا بحران
خلیج عرب میں جاری کشیدگی نے توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 13 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی انتباہ اور شپنگ کمپنیوں کی تشویش
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے نامعلوم ذرائع سے ملنے والی وائرلیس ہدایات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس صورتحال نے جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارت تقریباً تعطل کا شکار ہے۔
امریکی ردعمل اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ 2 امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں نے ہرمز کامیابی سے عبور کی ہے۔
واشنگٹن خطے میں بحری نقل و حرکت کو بحال رکھنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے، تاہم تجارتی جہازوں کا متبادل راستے اختیار کرنا عالمی سپلائی چین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
عالمی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ توانائی کا انحصار تیل سے معدنیات کی جانب منتقل ہو رہا ہے، مگر اس منتقلی میں بھی جغرافیائی سیاست بدستور حاوی ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری تناؤ یہ واضح کرتا ہے کہ توانائی کا تحفظ صرف پیداوار نہیں بلکہ محفوظ ترسیلی راستوں کے مرہونِ منت ہے۔