دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے امریکہ نے دنیا بھر میں ایک وسیع عسکری نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جو مستقل اڈوں، عارضی تنصیبات اور مقامی سہولیات کے اشتراک پر مشتمل ہے۔
مزید پڑھیں
جولائی 2024 میں کانگریس کی ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج دنیا کے 51 ممالک میں 128 سے زائد عسکری اڈوں کا استعمال کر رہی ہے۔
ا سٹرٹیجک اہمیت اور عسکری افادیت
یہ اڈے صرف فوج کی رہائش تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر اسٹرٹیجک مقاصد پورے کرتے ہیں۔
ان کے ذریعے جدید انٹیلی جنس، الیکٹرانک جاسوسی اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ حساس علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔
یہ فوجی مراکز رسد، مرمت اور حلیف افواج کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
بجٹ اور اخراجات کا حجم
امریکی وزارتِ دفاع نے مالی سال 2023 میں بیرونِ ملک اڈوں کے آپریشنز کے لیے 31.7 ارب ڈالر مختص کیے تھے، جبکہ 5.3 ارب ڈالر نئے انفرا اسٹرکچر کے لیے رکھے گئے۔
تاہم ہنگامی اخراجات اور عارضی تعیناتیوں کو شامل کیا جائے تو یہ اعداد و شمار سرکاری تخمینوں سے دگنے ہو سکتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یورپ اور ایشیا میں اپنے اڈوں کا دائرہ کار وسیع کیا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 90 کی دہائی میں فوجی مراکز میں کمی آئی، لیکن 11 ستمبر 2001 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی مفادات کے تحت نئے مراکز قائم کیے گئے۔
حالیہ برسوں میں چین اور روس کے ساتھ بڑھتی مسابقت کے باعث توجہ دوبارہ ایشیا پیسیفک اور مشرقی یورپ پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اڈوں کی درجہ بندی
پینٹاگون نے اپنے بیرونی اثاثوں کو 2 اہم زمروں میں تقسیم کیا ہے:
- مستقل اڈے: جہاں مستقل فورسز اور ٹھوس ڈھانچہ موجود ہو۔
- ہنگامی مراکز: جنہیں آپریشنل ضرورت کے تحت 5 سال تک استعمال کیا جاتا ہے اور پھر مزید ابتدائی، عارضی یا نیم مستقل میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔
ایشیا پیسیفک: مرکزی توجہ کا مرکز
یہ خطہ امریکی عسکری موجودگی کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں جاپان اور جنوبی کوریا میں 70 فیصد سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔
جاپان میں 15 بڑے امریکی اڈے ہیں، جہاں 55 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ جنوبی کوریا میں بھی 24 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جو شمالی کوریا کے مقابل اسٹرٹیجک دفاع فراہم کرتے ہیں۔
یورپی نیٹ ورک اور روس کا تناظر
یورپ میں تقریباً 84 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جہاں جرمنی، اٹلی اور برطانیہ ان کے اہم مراکز ہیں۔ جرمنی میں واقع ’رامسٹین ایئر بیس‘ اور ’سٹٹگارٹ گیریژن‘ امریکی آپریشنز کا گڑھ ہیں۔
اس کے علاوہ یوکرین جنگ کے بعد پولینڈ اور رومانیہ میں امریکی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد روس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی
مشرقِ وسطیٰ کے 12 سے زائد ممالک میں امریکی فورسز کی موجودگی برقرار ہے، جہاں بحرین میں واقع ‘الجفیر نیول بیس امریکی پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے۔
اس کے علاوہ کویت میں عارفجان کیمپ، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس اور سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس اہم تنصیبات ہیں۔
ان فوجی مراکز کا بنیادی مقصد خطے میں ایران اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف دفاعی توازن برقرار رکھنا ہے۔
افریقہ اور لاطینی امریکہ
افریقہ میں جيبوتی کا لیمونیئر بیس سب سے اہم مرکز ہے، جو ہورن آف افریقہ میں آپریشنز کو کنٹرول کرتا ہے۔
لاطینی امریکہ میں کیوبا کا گوانتانامو بیس اور ہنڈوراس کا سوٹو کینو ایئر بیس انسدادِ منشیات اور علاقائی سیکیورٹی کے مقاصد کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، حالانکہ وہاں مستقل فورسز کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکی عسکری نیٹ ورک ایک ایسی عالمی حقیقت ہے جو واشنگٹن کو دنیا کے ہر کونے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت دیتی ہے۔
اگرچہ یہ اڈے سیکیورٹی اور استحکام کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کا وسیع پھیلاؤ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن اور علاقائی خودمختاری کے حوالے سے مسلسل بحث اور تناؤ کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔