اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

مقامِ ابراہیمؑ، جنت کا پتھر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مقام ابراہیم
حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے دویاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی مٹا دی ہے (فوٹو: ایکس)

مفسرین نے مقام ابراہیم کے سلسلے میں مختلف باتیں کہی ہیں۔

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبے کی دیواریں چن رہے تھے۔ 

اس کی ضرورت اس وقت پڑی تھی جب دیوار اونچی ہوگئی تھی اور پتھر پر پتھر رکھتے چلے جانا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بس سے باہر ہوگیا تھا، مجبوراً وہ پتھر پر کھڑے ہوکر چنائی کا کام کرنے لگے تھے۔ 

مزید پڑھیں

مقام ابراہیم کو حجر ابراہیم علیہ السلام سے تعبیر کرنیوالوں میں ابن عباسؓ، جابر بن عبداللہؓ اور قتادہ ؓ شامل ہیں۔

وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھائی تھیں، اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات پڑے ہوئے ہیں اور یہ پتھر اب تک موجود ہے، آپؑ کے قدموں کے نشانات پر پیتل کا خول چڑھا یا گیا ہے۔

 اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم ہے:
اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے ایک مقام رجوع اور مقام امن مقرر کیا اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔ 

Untitled 1
یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبے کی دیواریں چن رہے تھے (فوٹو: ایکس)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم سے پورا حرم مراد ہے۔ 

دیگر کا کہنا ہے کہ حج کے تمام مقامات سے مقام ابراہیم مقصود ہے۔ 

’المصلیٰ‘ سے کیا مراد ہے؟

المصلیٰ ’جائے نماز‘ سے کیا مراد ہے؟ 

اس حوالے سے کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ 

ایک قول تو یہ ہے کہ جس پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ تعمیر کررہے تھے، اس سے جائے نماز مراد ہے۔ 

آپؑ کے قدموں کے
نشانات پر پیتل کا
خول چڑھا یا گیا ہے

اگر مقام ابراہیم سے پتھر مقصود ہو تو یہ بات ناقابل فہم ہے کیونکہ پتھر پر نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔
اس کے عقب میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
عقلاً اور شرعاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ جگہ جہاں پتھر رکھا ہوا ہو وہی پتھر کی وجہ سے مقام ابراہیم کہلائے، یہ وہ جگہ ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم سے پوری مسجد الحرام مراد ہے۔
بعض لوگ مقام ابراہیم پورے حرم ہی کو کہتے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ تمام حج مقامات، منیٰ، مزدلفہ اور عرفہ مقام ابراہیم ہیں۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا وہ مقام ابراہیم ہے۔ 

آخری قول ہی صحیح ہے اور مقام ابراہیم کہتے ہی سب کا ذہن اسی طرف ہی جاتا ہے۔ 

 یہ پتھر محفوظ ہے، اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات نمایاں ہیں، اس سے خانہ کعبہ کے معمار اول کی یاد محفوظ ہوگئی ہے۔

465464
جس پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ تعمیر کررہے تھے، اس سے جائے نماز مراد ہے (فوٹو: ایکس)

اصل پتھر جنت کا ہے۔

ترمذی، احمد،حاکم اور ابن حبان کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی مٹا دی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے۔

زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب حجر اسود اور مقام ابراہیم کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ 

اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو بت نہیں بننے دیا، عربوں نے کبھی ان کی پوجا نہیں کی، خانہ کعبہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان تینوں مقدس جگہوں کے لئے امت محمدیہؐ کہ لئے شرک کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف رکھا۔

654646
اللہ تعالیٰ نے حجر اسود اور مقام ابراہیم کو بت نہیں بننے دیا (فوٹو: ایکس)

مقام ابراہیم والا پتھر، حرم شریف میں شیشے کے کیس میں رکھا ہوا ہے۔ 

قدموں کے نشانوں کی اصل ہیئت بد ل گئی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کھلا ہوا تھا، کثرت سے زائرین کا ہاتھ لگنے سے اس کے نقوش ماند پڑگئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر جوتوں کے بغیر ننگے پیر کھڑے ہوتے ہوں گے اس لئے کہ جوتوں کے بجائے پیروں کے نشان پڑے ہوئے ہیں۔

ان کی روشنی مٹا
دی گئی
اگر ایسا نہ ہوتا
تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے

مسلم خلفاء اور سلاطین نے مقام ابراہیم کی بڑی خدمت کی۔
بعض نے اسے سیسے کی پلیٹوں سے بنی کرسی پر چسپاں کرایا، خلیفہ منتصر باللہ نے 241ھ میں سیسے کے بجائے چاندی کی پلیٹیں تیار کرائیں، آگے چل کر مقام ابراہیم کے لئے ایک کمرہ بنوایا گیا 900ھ میں اسے از سرنو تعمیر کرایا گیا۔
عثمانی سلطان عبد العزیز نے گنبد کو ڈیڑھ میٹر اونچا کرادیا۔
جب امیر سعود بن عبد العزیز آل سعود نے ساتواں حج کیا تو انہوں نے گنبد ختم کرادیا۔
عوام، مقام ابراہیم اور اس پر قدموں کے نشانات کھل کر دیکھنے لگے۔

حج، طواف اور نماز ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو محسوس کیا گیا کہ مسجد الحرام میں مقام ابراہیم کی وجہ سے نماز میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 

رابطہ عالم اسلامی نے اس سے متعلق جائزہ تیار کرایا اور شاہ فیصل کی خدمت میں پیش کردیا۔ 

تجویز کیا گیا تھا کہ مقام ابراہیم میں جو اضافے کرائے گئے ہیں، انہیں ختم کرادیا جائے اور اسے شیشے کے کیس میں رکھوا دیا جائے۔

ایسا کرنے سے جگہ میں اضافہ ہوگا اور اسی کے ساتھ ساتھ عوام الناس کا یہ عقیدہ بھی غلط ثابت ہوجائے گا کہ اس جگہ ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔

مقام ابراہیم کے کمرے کا رقبہ 18مربع میٹر تھا جبکہ مقام ابراہیم ڈیڑھ میٹر سے زیادہ نہ تھا۔ 

18 رجب 1387ھ کو مقام ابراہیم کو اعلیٰ درجے کے کرسٹل کے بنے ہوئے شوکیس میں رکھنے کی تقریب منعقد کی گئی جس کی بدولت حرم شریف میں تقریباً 5 مربع میٹر کا رقبہ خالی ہوگیا۔ 

جہاں تک کرسٹل کے رقبے کا تعلق ہے تو اس کا قطر 80 سینٹی میٹر، موٹائی 20 سینٹی میٹر اور اونچائی تقریباً ایک میٹر ہے۔ 

یہ 75 سینٹی میٹر اونچے سنگ مرمر کے چبوترے پر رکھا ہوا ہے۔

اس پتھر کا مجموعی وزن 1700 کلوگرام ہے، اس میں 600 کلوگرام چبوترے کا وزن ہے۔