آپؑ کے قدموں کے
نشانات پر پیتل کا
خول چڑھا یا گیا ہے
اگر مقام ابراہیم سے پتھر مقصود ہو تو یہ بات ناقابل فہم ہے کیونکہ پتھر پر نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔
اس کے عقب میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
عقلاً اور شرعاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ جگہ جہاں پتھر رکھا ہوا ہو وہی پتھر کی وجہ سے مقام ابراہیم کہلائے، یہ وہ جگہ ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم سے پوری مسجد الحرام مراد ہے۔
بعض لوگ مقام ابراہیم پورے حرم ہی کو کہتے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ تمام حج مقامات، منیٰ، مزدلفہ اور عرفہ مقام ابراہیم ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا وہ مقام ابراہیم ہے۔
آخری قول ہی صحیح ہے اور مقام ابراہیم کہتے ہی سب کا ذہن اسی طرف ہی جاتا ہے۔
یہ پتھر محفوظ ہے، اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات نمایاں ہیں، اس سے خانہ کعبہ کے معمار اول کی یاد محفوظ ہوگئی ہے۔
اصل پتھر جنت کا ہے۔
ترمذی، احمد،حاکم اور ابن حبان کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی مٹا دی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے۔
زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب حجر اسود اور مقام ابراہیم کی تعظیم کیا کرتے تھے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو بت نہیں بننے دیا، عربوں نے کبھی ان کی پوجا نہیں کی، خانہ کعبہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے ان تینوں مقدس جگہوں کے لئے امت محمدیہؐ کہ لئے شرک کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف رکھا۔
مقام ابراہیم والا پتھر، حرم شریف میں شیشے کے کیس میں رکھا ہوا ہے۔
قدموں کے نشانوں کی اصل ہیئت بد ل گئی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کھلا ہوا تھا، کثرت سے زائرین کا ہاتھ لگنے سے اس کے نقوش ماند پڑگئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر جوتوں کے بغیر ننگے پیر کھڑے ہوتے ہوں گے اس لئے کہ جوتوں کے بجائے پیروں کے نشان پڑے ہوئے ہیں۔
ان کی روشنی مٹا
دی گئی
اگر ایسا نہ ہوتا
تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے
مسلم خلفاء اور سلاطین نے مقام ابراہیم کی بڑی خدمت کی۔
بعض نے اسے سیسے کی پلیٹوں سے بنی کرسی پر چسپاں کرایا، خلیفہ منتصر باللہ نے 241ھ میں سیسے کے بجائے چاندی کی پلیٹیں تیار کرائیں، آگے چل کر مقام ابراہیم کے لئے ایک کمرہ بنوایا گیا 900ھ میں اسے از سرنو تعمیر کرایا گیا۔
عثمانی سلطان عبد العزیز نے گنبد کو ڈیڑھ میٹر اونچا کرادیا۔
جب امیر سعود بن عبد العزیز آل سعود نے ساتواں حج کیا تو انہوں نے گنبد ختم کرادیا۔
عوام، مقام ابراہیم اور اس پر قدموں کے نشانات کھل کر دیکھنے لگے۔
حج، طواف اور نماز ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو محسوس کیا گیا کہ مسجد الحرام میں مقام ابراہیم کی وجہ سے نماز میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
رابطہ عالم اسلامی نے اس سے متعلق جائزہ تیار کرایا اور شاہ فیصل کی خدمت میں پیش کردیا۔
تجویز کیا گیا تھا کہ مقام ابراہیم میں جو اضافے کرائے گئے ہیں، انہیں ختم کرادیا جائے اور اسے شیشے کے کیس میں رکھوا دیا جائے۔
ایسا کرنے سے جگہ میں اضافہ ہوگا اور اسی کے ساتھ ساتھ عوام الناس کا یہ عقیدہ بھی غلط ثابت ہوجائے گا کہ اس جگہ ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔