سعودی وزارتِ ہیومن ریسورسز نے حج کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی خصوصی چھٹی کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے ضوابط بیان کئے ہیں، جن کا مقصد ملازمین کو عبادت کی ادائیگی کا موقع دینا اور ساتھ ہی اداروں کے کام میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
اس پالیسی کے تحت وزارت نے وضاحت کی ہے کہ:
- ملازم کو 10 سے 15 دن تک بااجرت چھٹی دی جاتی ہے، جس میں عید الاضحیٰ کی سرکاری تعطیلات بھی شامل ہوتی ہیں، یعنی الگ سے عید کی چھٹی شمار نہیں ہوگی بلکہ اسی مدت کا حصہ ہوگی۔
مزید پڑھیں
- یہ چھٹی صرف ان ملازمین کے لیے ہے جو اپنے موجودہ آجر کے ساتھ کم از کم مسلسل دو سال مکمل کر چکے ہوں تاکہ ادارے کے ساتھ وابستگی کو مدنظر رکھا جا سکے۔
- آجر ’کمپنی یا ادارہ‘ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے کام کی نوعیت اور ضرورت کے مطابق ہر سال محدود تعداد میں ملازمین کو یہ چھٹی دے، تاکہ کام متاثر نہ ہو۔
- حج کی یہ چھٹی ملازم کو اپنی پوری ملازمت کے دوران صرف ایک بار دی جاتی ہے، اور اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس نے پہلے حج ادا نہ کیا ہو۔
مزید برآں، عملی طور پر:
- بعض ادارے ملازمین سے پیشگی درخواست دینے کا تقاضا کرتے ہیں، تاکہ شیڈولنگ بہتر طریقے سے کی جا سکے۔
- ترجیح عموماً اُن ملازمین کو دی جاتی ہے جنہوں نے طویل عرصہ کام کیا ہو یا پہلے کبھی حج نہ کیا ہو۔
- ملازم کو عموماً حج پرمٹ یا متعلقہ دستاویزات (جیسے نسک کارڈ وغیرہ) فراہم کرنا پڑ سکتے ہیں۔
یہ ضوابط اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ملازمین کو مذہبی فریضہ ادا کرنے کا موقع ملے، جبکہ اداروں کی کارکردگی اور تسلسل بھی برقرار رہے۔