مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے اور نیکی و عبادات کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فریضہ حج اسلام کے عظیم ترین شعائر میں سے ہے، جس میں ہدایت اور برکت کے معانی نمایاں ہوتے ہیں اور یہ بیت الحرام میں ادا کیا جاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے باعثِ برکت اور ہدایت بنایا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انہوں نے جمعہ کے خطبے میں کہا کہ مکہ مکرمہ ایک منفرد مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ وحی کے نزول کی سرزمین، انبیاء کی جائے بعثت اور مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔
یہاں اللہ کا پہلا گھر قائم کیا گیا۔
شیخ السدیس نے مزید کہا کہ بیت اللہ کی سب سے بڑی خصوصیات میں سے ایک وہ امن اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہے اور یہ امن قیامت تک برقرار رہے گا۔
انہوں نے حج کو ایک عظیم عبادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خالص توحید اور اتباعِ سنت کا عملی مظہر ہے، اور اس کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ انسان گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے۔
انہوں نے حجاج کو ہدایت دی کہ وہ حرم کی حرمت کا مکمل خیال رکھیں، نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، ہجوم اور بدنظمی سے بچیں، اور ضعیف افراد کی مدد کریں۔
ساتھ ہی انہوں نے حج کے لیے مقررہ قوانین اور اجازت ناموں کی پابندی کو ضروری قرار دیا تاکہ جانوں کے تحفظ اور نظم برقرار رکھنے کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے ضیوف الرحمن کی خدمت میں مصروف اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
دوسری جانب مسجد نبوی کے امام و خطیب، شیخ ڈاکٹر عبد الباری الثبیتی نے بھی مسلمانوں کو تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی نصیحت کی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے، مگر اس جدوجہد کی اصل قدر نیت اور مقصد سے متعین ہوتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام میں کوشش صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔
ایک استاد، تاجر یا ڈاکٹر سب کا عمل اس بات پر منحصر ہے کہ ان کی نیت کیا ہے۔
اگر مقصد اصلاح اور اللہ کی رضا ہو تو یہی عمل نیکی بن جاتا ہے، ورنہ بے مقصد محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
شیخ الثبیٹی نے کہا کہ انسان کی کوشش دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو اللہ کی رضا کے لیے ہو اور کامیابی کا باعث بنے، اور دوسری وہ جو بے مقصد ہو اور ضائع ہو جائے۔
خطبے کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں کو اپنی نیت درست کرنے، شریعت کی پیروی کرنے اور ہر عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی تلقین کی۔