اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایرانی حجاج کی سعودی عرب آمد شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی حجاج سعودی عرب
فضائی آمد کا آغاز، بری قافلے کل سے روانہ ہوں گے (فوٹو: ایکس)

وزارتِ حج و عمرہ نے کہا ہے کہ ایرانی حجاج نے آج ہفتہ کی صبح فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچنا شروع کر دیا ہے۔

العربیہ کے مطابق وزارت نے کہا ہے کہ مزید ایرانی حجاج کل اتوار سے بری راستے کے ذریعے بھی ملک میں داخل ہونا شروع ہوں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حج سے متعلق تمام ادارے عازمین حج کو آسان اور منظم انداز میں مناسک کی ادائیگی کے لیے جامع خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

اس سے قبل وزیرِ صحت فہد بن عبدالرحمن الجلاجل نے مکہ مکرمہ میں متعدد طبی مراکز کا دورہ کیا تاکہ حج 1447ھ کے لیے ان کی تیاریوں اور استعداد کا جائزہ لیا جا سکے۔ 

یہ اقدام قیادت کی جانب سے حجاج کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی صحت و سلامتی یقینی بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔

اسی طرح وزیرِ حج و عمرہ توفیق بن فوزان الربیعہ نے بھی اس بات پر 

زور دیا کہ قیادت کی ہدایات کے مطابق تمام وسائل بروئے کار لا کر اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی بہترین دیکھ بھال کی جا سکے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔

سعودی عرب نے حج سیزن 1447 ہجری کے لیے وسیع اور منظم تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جن کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین کو محفوظ، آسان اور منظم انداز میں مناسک کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

ایرانی حجاج کل اتوار سے بری راستے کے ذریعے بھی ملک میں داخل ہوں گے

وزارت حج و عمرہ کے مطابق اس سال جدید ڈیجیٹل نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے، جس کے تحت ’نسک‘ پلیٹ فارم کے ذریعے رجسٹریشن، پیکجز کا انتخاب، ادائیگی اور ویزا کے اجرا کا عمل مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف باقاعدہ حج پرمٹ رکھنے والے افراد کو ہی مکہ مکرمہ میں داخلے اور حج کی ادائیگی کی اجازت ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد ہجوم کو کنٹرول کرنا اور سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

حج انتظامات کے تحت مختلف ممالک کے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اور ویزوں کا اجرا قبل از وقت شروع کر دیا گیا ہے تاکہ عازمین کی آمد و رفت اور قیام کے انتظامات کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔

دوسری جانب، مقدس مقامات پر انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے، جس میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور کیمپنگ کے نظام کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ 

متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے لیے متعدد ورکشاپس اور اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔