اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

ایران کے حالیہ مسترد شدہ امن پلان میں کیا تھا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ کشیدگی
معاہدہ یا تباہی، واشنگٹن کا سخت ترین مؤقف

رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے آج ہفتہ کے روز بتایا ہے کہ تہران کی وہ تجویز جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسترد کرتے آئے ہیں، اس میں آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور ایران پر عائد امریکی بحری محاصرے کے خاتمے کی تجویز شامل ہے جبکہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔

رائٹرز نے مزید بتایا کہ ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تہران سمجھتا ہے کہ جوہری مذاکرات کو مؤخر کرنے کی نئی تجویز ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد کسی معاہدے تک پہنچنے کو آسان بنانا ہے۔

مزید پڑھیں

نئی ایرانی تجویز کے مطابق جنگ اس ضمانت کے ساتھ ختم ہوگی کہ اسرائیل اور امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ 

اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا جبکہ امریکہ اپنا محاصرہ ختم کرے گا۔

عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس فریم ورک کے تحت بعد میں مذاکرات کئے جائیں گے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں

 عائد کرنے کے بدلے پابندیوں کے خاتمے پر بات ہوگی۔ 

ساتھ ہی ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے، چاہے عارضی طور پر افزودگی معطل کرنے پر اتفاق ہی کیوں نہ کیا جائے۔

آبنائے ہرمز محاصرہ
جوہری پروگرام پر مذاکرات کو آخری مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز

انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت سب سے پیچیدہ جوہری معاملے پر مذاکرات کو آخری مرحلے تک مؤخر کیا جائے گا تاکہ زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

ٹرمپ کا دعویٰ:
ایران کی میزائل صلاحیت کا
85 فیصد تباہ

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ’خراب معاہدے‘ کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ، جو خطے میں مضبوط ترین سمجھی جاتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے 159 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد محاصرہ ایرانی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے اور یہ ان کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جلد محاصرہ ختم نہیں کرے گا کیونکہ وقت اس کے حق میں ہے، اور ایران کے خوراک کے ذخائر 3 ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔

بحری نقشے پر آبنائے ہرمز کی ناکابندی اور 'شیڈو فلیٹ' کے خفیہ راستوں کی نشاندہی
امریکی دباؤ برقرار، خوراک کے ذخائر 3 ماہ میں ختم ہونے کا خدشہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک نیا نظام ابھر رہا ہے اور واشنگٹن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ بات چیت کے لیے کوئی واضح فریق سامنے آئے جبکہ ایرانی قیادت کے پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے کئی رہنماؤں کو ختم کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں واضح سمت کی کمی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریق موجود نہیں ہے۔ 

انہوں نے اسلام آباد کے ذریعے پیش کی گئی ایرانی تجویز پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

فوجی آپشن پر ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کا سامنا کرے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں۔