ٹرمپ کا دعویٰ:
ایران کی میزائل صلاحیت کا
85 فیصد تباہ
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ’خراب معاہدے‘ کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ، جو خطے میں مضبوط ترین سمجھی جاتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے 159 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد محاصرہ ایرانی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے اور یہ ان کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جلد محاصرہ ختم نہیں کرے گا کیونکہ وقت اس کے حق میں ہے، اور ایران کے خوراک کے ذخائر 3 ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک نیا نظام ابھر رہا ہے اور واشنگٹن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ بات چیت کے لیے کوئی واضح فریق سامنے آئے جبکہ ایرانی قیادت کے پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے کئی رہنماؤں کو ختم کیا جا چکا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں واضح سمت کی کمی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریق موجود نہیں ہے۔
انہوں نے اسلام آباد کے ذریعے پیش کی گئی ایرانی تجویز پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
فوجی آپشن پر ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کا سامنا کرے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں۔