ہندوستان ایک بار پھر واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے استثنا مل سکے۔
مزید پڑھیں
بحیرہ عمان میں واقع یہ بندرگاہ ہندوستان کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم ترین اسٹریٹجک ذریعہ ہے۔
چا بہار بندرگاہ ہندوستان کے لیے محض ایک اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان سے گزرے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
یہ راستہ بھارت کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر چینی اثر و رسوخ کے
مقابلے میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ہندوستانی سرمایہ کاری اور 10 سالہ معاہدہ
مئی 2024 میں ہندوستان کی ’انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ‘ نے چا بہار کے ’شہید بہشتی‘ ٹرمینل کو چلانے کے لیے ایران کے ساتھ 10 سالہ معاہدہ کیا۔
2018 سے اب تک بھارت یہاں 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے جبکہ 250 ملین ڈالر کا کریڈٹ لائن بھی مختص کیا گیا ہے۔
کارکردگی کے اعداد و شمار
2018 سے اب تک چا بہار بندرگاہ پر 450 سے زائد بحری جہاز لنگرانداز ہوئے ہیں اور اور ایک لاکھ 34 ہزار 82 کنٹینرز کے ذریعے 8.7 ملین ٹن سے زائد سامان کی نقل و حمل ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ہندوستان کی جانب سے 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری مکمل ہو چکی ہے۔
امریکی پابندیوں اور استثنا کا معاملہ
امریکہ نے پہلے چا بہار کو افغان تعمیر نو کے پیش نظر استثنا دیا تھا، جسے ستمبر 2025 میں ختم کر دیا گیا۔
ہندوستان کی سفارتی کوششوں سے اسے 26 اپریل 2026 تک بڑھایا گیا تھا، تاہم اب نئی دہلی حکومت اس استثنا میں دوبارہ توسیع کے لیے امریکہ سے بات چیت کررہی ہے۔
بحری ناکابندی اور بڑھتی مشکلات
امریکی سینٹرل کمانڈ نے 13 اپریل 2026 سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکابندی کررکھی ہے، جس کے تحت اب تک 25 تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا ہے۔
اس صورتحال نے چا بہار پورٹ پر ہندوستانی سرگرمیوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
افغانستان کے لیے تجارتی اہمیت
ہندوستان چابہار کے ذریعے افغانستان کو انسانی امداد اور تجارتی سامان پہنچاتا ہے۔
افغان وزیر صنعت و تجارت نور الدین عزیزی اور ہندوستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں میں نیمروز صوبے میں ’ڈرائی پورٹس‘ کے قیام اور باقاعدہ شپنگ لائنز شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جو افغان معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں اسے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو متوازن رکھنا ہے۔
چابہار پورٹ کا مستقبل نہ صرف پابندیوں پر بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل حالات اور چین و پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر منحصر ہے۔