ایرانی فوجی ذرائع نے آج ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، جبکہ امن مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی طرف سے پیش کی جانے ہر تجویز مسترد کر رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مرکزی کمانڈ ’خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر‘ کے نائب سربراہ برائے معائنہ محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان موجود ہے اور زمینی حقائق سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں رہتا۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب العربیہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایرانی ردعمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران میں اصل فیصلہ ساز کون ہے اس لیے موجودہ جنگ کے انجام کی پیشگوئی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا، ایران کے خلاف برتری حاصل کئے ہوئے ہے اور ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی شرائط پر پورا نہ اترے۔
اسی تناظر میں، ٹرمپ نے ایران جنگ کے مستقبل کے بارے میں کسی واضح پیشگوئی کو مسترد کیا تاہم وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو ایک باضابطہ پیغام ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ جنگ 7 اپریل کو ختم ہو چکی ہے۔
تاہم، ٹرمپ نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ایران کی جانب سے خطرہ اب بھی برقرار ہے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے وہ ہر ضروری اقدام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق مسلح افواج کی رہنمائی جاری رکھیں گے اور انہیں کانگریس سے کسی نئی اجازت کی ضرورت نہیں، خاص طور پر اس وقت جب 60 دن کی مہلت ’فوجی طاقت کے غیر مجاز استعمال کی پابندی کے قانون کے تحت‘ ختم ہو چکی ہے۔