اسی دوران وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کو امریکی بحری محاصرے کو توڑنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کا خفیہ تیل اسمگلنگ نیٹ ورک تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔
امریکی جنگی جہازوں کے سخت حصار کے باعث آئل ٹینکرز بحر ہند تک پیش قدمی میں ناکام رہے ہیں، ایران اب متبادل راستوں پر انحصار کر رہا ہے، جن میں چین تک زمینی راستے سے تیل کی ترسیل اور خوراک کی درآمد قفقاز اور پاکستان کے ذریعے شامل ہیں۔
یہ تمام پیش رفت اس جنگ کے تناظر میں ہو رہی ہے جو 28 فروری کو شروع ہوئی اور 8 اپریل کو جنگ بندی پر ختم ہوئی، تاہم کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز پر بحری محاصرہ جاری ہے۔
ایران کی طرف سے نئی ڈیل، امن یا جنگ، فیصلہ آج؟
Overseas Post