اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایران کی طرف سے نئی ڈیل، امن یا جنگ، فیصلہ آج؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا امن مذاکرات
واشنگٹن پر دباؤ بڑھ گیا، فیصلہ کن لمحے قریب (فوٹو: العربیہ)

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران آج جمعہ کو امن کا نیا ترمیم شدہ منصوبہ پیش کر سکتا ہے، جس کا مقصد امریکا کے ساتھ تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانا ہے، خصوصاً اس کے بعد جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابقہ تجویز مسترد کر دی تھی۔

ذرائع کے مطابق ثالثوں کو جلد ہی ایران کی جانب سے نئے ردعمل کی توقع ہے جبکہ مذاکراتی عمل میں جزوی پیش رفت کے آثار سامنے آ رہے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات میں باضابطہ ثالث رہے گا۔ 

ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ فوری نتائج کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے اور تہران ایک ایسے مذاکراتی فریم ورک کی تلاش میں ہے جو جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت دے سکے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے

 کا خواہشمند ہے مگر کمزور پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری محاصرہ ایران کی معیشت کو ’گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہا ہے‘ اور اسے تیل کی آمدنی سے محروم کر چکا ہے۔

shipping tracking apps 2
ایران آج نیا ترمیم شدہ امن منصوبہ پیش کر سکتا ہے

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں قیادت کی صورتحال غیر واضح ہے اور امریکا نچلے درجے کی قیادت سے بات کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان بدستور مرکزی ثالث کے
طور پر برقرار

اسی دوران وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کو امریکی بحری محاصرے کو توڑنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کا خفیہ تیل اسمگلنگ نیٹ ورک تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔
امریکی جنگی جہازوں کے سخت حصار کے باعث آئل ٹینکرز بحر ہند تک پیش قدمی میں ناکام رہے ہیں، ایران اب متبادل راستوں پر انحصار کر رہا ہے، جن میں چین تک زمینی راستے سے تیل کی ترسیل اور خوراک کی درآمد قفقاز اور پاکستان کے ذریعے شامل ہیں۔
یہ تمام پیش رفت اس جنگ کے تناظر میں ہو رہی ہے جو 28 فروری کو شروع ہوئی اور 8 اپریل کو جنگ بندی پر ختم ہوئی، تاہم کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز پر بحری محاصرہ جاری ہے۔

اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔