فرانس کے شہر ٹور میں مسلمان خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے طویل انتظار اور پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث میتیں ہفتوں سرد خانے میں پڑی رہتی ہیں یا انہیں سیکڑوں کلومیٹر دور لے جا کر دفن کرنا پڑتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بحران 2024 سے شدت اختیار کر چکا ہے۔
یاسمینہ نامی خاتون کو اپنے والد کی دسمبر 2025 میں وفات کے بعد تدفین کے لیے 29 دن انتظار کرنا پڑا اور طویل انتظامی جدوجہد کے بعد انہیں اپنے والد کو گھر سے 250 کلومیٹر دُور دفن کرنا پڑا۔
مذہبی تقاضے اور انتظامی رکاوٹیں
اسلامی روایات میں میت کی جلد تدفین اور رُخ قبلہ کی جانب رکھنا ضروری ہے۔
تاہم ٹور کے میونسپل قبرستانوں میں مسلم سیکشنز کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ یاسمینہ جیسے غمزدہ افراد کا کہنا ہے کہ سرد خانے میں میت کے گلنے سڑنے کا علم ہونا ایک انتہائی کربناک اور شرمناک صورتحال ہے۔
قومی سطح پر بڑھتا بحران
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ٹور تک محدود نہیں بلکہ پورے فرانس میں پھیلا ہوا ہے۔
کووڈ-19 کے بعد سے رجحانات بدلے ہیں کیونکہ نئی نسل اپنے آبائی ممالک کے بجائے فرانس ہی میں دفن ہونا پسند کرتی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں مقامی انتظامیہ کی پیشرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیاسی اور انتظامی غفلت
فرانسیسی کونسل برائے مسلم مذہب نے 2020 میں حکومت کو قبرستانوں میں جگہ کی کمی سے خبردار کیا تھا، مگر تاحال کوئی ٹھوس حل نہیں نکلا۔
ماہرین کے مطابق اس سُستی کی بنیادی وجوہات بیوروکریسی اور مختلف شہروں کے میئرز کے سیاسی رویے ہیں جو اس حساس معاملے پر فیصلہ لینے میں گریز کرتے ہیں۔
مستقبل کے امکانات اور مطالبات
مقامی حکام ٹور میں عارضی حل یا نئے قبرستان کی پلاننگ کر رہے ہیں، لیکن اس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
مقامی تنظیمیں اس معاملے کو محض مذہبی نہیں بلکہ انسانی وقار کا مسئلہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شہریوں کو مرنے کے بعد بھی باعزت طریقے سے دفن ہونے کا بنیادی حق ملنا چاہیے۔
فرانسیسی معاشرے میں مسلمانوں کے لیے تدفین کی یہ سہولیات درحقیقت ان کے حقوقِ شہریت کا امتحان ہیں۔
جب تک انتظامیہ اس معاملے کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کی بنیاد پر حل نہیں کرتی، تب تک سوگوار خاندانوں کی یہ اذیت ناک صورتحال برقرار رہے گی۔