سعودی محقق ڈاکٹر خالد ابو خبر القرشی نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کی جانے والی تجرباتی تحقیق کے نتائج جاری کردیے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ تجربات ’سعودی عرب کی جانب سے خلا کا سفر‘ مشن کا حصہ تھے، جن کا مقصد کم کششِ ثقل میں انسانی خلیات اور جینز کے رویے کا مطالعہ کرنا تھا۔
جینز کی سرگرمیوں کا مشاہدہ
تحقیقی ٹیم نے خلائی اسٹیشن پر موجود زندہ خلیات میں لاکھوں جینز کی سرگرمیوں کا باریکی سے جائزہ لیا۔
تحقیقی نتائج سے ظاہر ہوا کہ مائیکرو گریویٹی کے ماحول میں جینز کے اظہار (Gene Expression) میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، جو مختلف بیماریوں کے ارتقاء کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
بیماریاں اور جینیاتی روابط
ڈاکٹر القرشی کے مطابق ان تبدیلیوں کا تعلق دل کی بیماریوں، اعصابی اور عضلاتی مسائل کے ساتھ ساتھ گردوں کی خرابی سے بھی ہے۔
مزید برآں یہ تحقیق بینائی، سماعت، ذائقے اور نیند کو کنٹرول کرنے والے جینز کی کارکردگی کے حوالے سے بھی اہم طبی معلومات فراہم کرتی ہے۔
ادویہ سازی میں انقلاب
یہ تحقیقی پیش رفت ادویات کی تیاری اور ان کے مضر اثرات کے تعین میں بھی نئی راہیں کھول رہی ہے۔
اے آئی کے استعمال سے بائیو ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اب محققین کم وقت میں پیچیدہ بیماریوں کے درست علاج کے لیے زیادہ مؤثر ادویات تیار کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
خلائی تحقیق کے چیلنجز
خلا میں زندہ خلیات کو منتقل کرنا اور انہیں وہاں کے ماحول کے مطابق ڈھالنا انتہائی پیچیدہ مرحلہ تھا۔
سعودی خلانورد ریانہ برناوی اور ماہر سائنسی ٹیموں نے زمین پر پہلے سے کی گئی سیمولیشن اور ڈیزائننگ کے ذریعے ان تکنیکی مشکلات پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔
زمینی اور خلائی ماحول میں فرق
تحقیق سے ثابت ہوا کہ انسانی خلیات خلا میں زمین کے مقابلے میں مختلف جینیاتی رویے اپناتے ہیں۔
یہ حیاتیاتی تبدیلیاں بیماریوں کے میکانزم کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سعودی خلائی ایجنسی اس منصوبے کی بھرپور معاونت کر رہی ہے تاکہ طبی میدان میں نئی ایجادات کو پیٹنٹ کروایا جا سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق مملکت کی یہ تحقیق خلائی علوم اور بائیو میڈیسن کے امتزاج کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
یہ کاوش نہ صرف سائنسی افق کو وسیع کرتی ہے بلکہ دائمی امراض کے علاج کے لیے ایک ایسا نیا دروازہ کھولتی ہے جو مستقبل کی طب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔