انعام الرحمن
پاکستانی قومی سلامتی کے سابق مشیر
یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جنگ میں 3 ممالک، امریکہ، اسرائیل اور ایران مکمل طور پر شریک تھے، جبکہ اس جنگ کے اثرات چند دیگر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان تک بھی پہنچے۔
ان ممالک کے اپنے اپنے مختلف مقاصد تھے اور اسی حقیقت نے جنگ کے نتائج پر اثر ڈالا اور اب یہ امن مذاکرات اور ممکنہ معاہدوں کی شقوں کو بھی نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے۔
یہ مضمون اس جنگ کی نوعیت، خصوصیات، خامیوں یا اس کے مقاصد اور نہ ہی اس بات پر بحث کرے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔
ان تمام موضوعات پر جنگ کے اختتام کے بعد الگ سے تفصیلی تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
جب ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں مذاکرات جاری تھے اور ایران امریکی مطالبات کی بڑی حد تک منظوری دینے کے قریب تھا، اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایک اچانک حملہ کیا، جسے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
یہ حملہ ابتدائی مرحلے میں انتہائی غیر اخلاقی اور غیر انسانی نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ
ای سمیت کئی اہم رہنما ہلاک ہو گئے۔
جلد ہی امریکہ کو اندازہ ہوا کہ وہ ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے۔
جدید ترین ہتھیاروں اور فضائی حملوں کے باوجود ایران کے عوام کے عزم کو توڑا نہ جا سکا۔
ایران میں حکومت کے خلاف کوئی عوامی احتجاج سامنے نہیں آیا بلکہ عوام متحد ہو گئے اور اپنے رہنما کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عہد کیا۔
ایران نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے جوابی کارروائی شروع کی، پہلے ڈرونز اور سادہ میزائلوں کے ذریعے دفاعی نظام کو مصروف کیا اور بعد میں جنگ کو وسعت دیتے ہوئے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔
مذاکرات ناکام بھی ہوں تب بھی پاکستان کامیاب رہا
اسی اہم مرحلے پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا، جس کے بعد چین نے امریکی و اسرائیلی حملے کی مخالفت اور ایران کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعلان کیا، جو صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔
پاکستان کی یہ صلاحیت کہ وہ بیک وقت امریکہ، چین، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ رابطہ قائم رکھے، انتہائی مؤثر ثابت ہوئی، اور دنیا کی نظریں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں پر مرکوز ہو گئیں۔
چین نے اس مشکل سفارتی عمل میں پاکستان کی مکمل حمایت کی۔
ایک عالمی طاقت ’امریکہ‘، ایک جارح ریاست ’اسرائیل‘ اور ایک مضبوط مزاحمتی ریاست ’ایران‘ کو ایک میز پر لانا آسان نہیں تھا مگر پاکستان نے یہ ممکن بنا کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔
40 دن کی شدید جنگ کے بعد جنگ بندی کا قیام پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 50 سالہ دشمنی کو ایک نشست میں ختم نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات پیچیدہ اور سست روی کا شکار ہیں۔باہمی دھمکیوں کے باوجود ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ان کی مقبولیت میں کمی اور ممکنہ مواخذے کے خدشات موجود ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی ایک عنصر ہے۔
بنیامین نیتن یاہو کے لیے ایران ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسرائیل کو توقع تھی کہ ایرانی نظام کمزور ہو جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔
اسی لیے اسرائیل وقتی جنگ بندی قبول کر سکتا ہے مگر طویل مدتی معاہدے سے گریز کرے گا۔
ایران میں حالیہ بدامنی، اقتصادی مسائل اور بیرونی دباؤ کے باوجود حکومت نے صورتحال پر قابو پایا۔
امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد ایرانی عوام مزید متحد ہو گئے، جس کے باعث حکومت کسی کمزوری کا تاثر دینے سے گریز کر رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔
کچھ ممالک امریکہ و اسرائیل کے قریب ہیں جبکہ دیگر ممالک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہے ہیں، خصوصاً چین اور دیگر طاقتوں کے ساتھ۔
ہرمز کی بندش اور امن عمل میں تعطل نے خطے کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے جس کے باعث اکثر ممالک امن کے خواہاں ہیں۔
تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے مستقل جنگ بندی ممکن نظر آتی ہے تاہم باہمی عدم اعتماد ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
دنیا آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور بحری تجارت کی بحالی کی منتظر ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں، چین کی حمایت کے ساتھ، مثبت اور مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو اس کی وجہ فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی ہوگی، نہ کہ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ناکامی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا امن کی امید رکھتی ہے اور اس کے لیے دعاگو ہے۔
بشکریہ: الجزیرہ