سعودی وژن 2030 کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق وژن کے 93 فیصد اشاریوں نے اپنے سالانہ اہداف حاصل کر لیے ہیں یا ان سے تجاوز کر لیا ہے یا ان کے قریب پہنچ گئے ہیں جبکہ 1290 اقدامات میں سے 90 فیصد مکمل ہو چکے ہیں یا درست سمت میں گامزن ہیں۔
یہ رپورٹ، جو ہفتہ کے روز جاری کی گئی، وژن کے تینوں بنیادی ستونوں ’متحرک معاشرہ، خوشحال معیشت، اور پرعزم وطن‘ میں ہر اشاریے کی کارکردگی کو شفاف انداز میں پیش کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
اس میں کامیاب اشاریوں، ترقی کے اسباب اور ان شعبوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جہاں اہداف حاصل نہ ہو سکے، ساتھ ہی اصلاحی منصوبے بھی بیان کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے کئی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، خصوصاً معیشت میں جہاں 2025 میں جی ڈی پی میں گزشتہ 3 سالوں کی بلند ترین شرح سے اضافہ ہوا۔
نجی شعبے کی معیشت میں شراکت 51 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ غیر تیل شعبے کا حصہ 55 فیصد ہو گیا تاہم تعلیم کے شعبے میں ابھی بھی مارکیٹ کی ضروریات اور تعلیمی نتائج کے درمیان فرق ایک چیلنج کے طور پر موجود ہے۔
متحرک معاشرہ
اس محور کا مقصد سعودی معاشرے کو ایک متحرک، اسلامی اقدار سے وابستہ اور جدید سہولیات سے مزین معاشرہ بنانا ہے، جہاں عالمی معیار کی تفریح، صحت اور سماجی خدمات دستیاب ہوں۔
حج و عمرہ
2025 میں بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد 18 ملین سے تجاوز کر گئی، جس کی وجہ ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر خدمات ہیں۔
حج کے حوالے سے ’روٹ ٹو مکہ‘ پروگرام کے تحت 1.2 ملین حجاج مستفید ہوئے، جو 2017 میں صرف 1692 تھے۔
رہائش
سعودی خاندانوں کی گھروں کی ملکیت کی شرح بڑھ کر 66.24 فیصد ہو گئی، جو 851 ہزار سے زائد خاندانوں تک پہنچ گئی۔
اس میں حکومتی اصلاحات اور نجی و غیر منافع بخش شعبے کی شراکت اہم رہی۔
انسانی وسائل
روزگار کے قابل افراد میں سے 33.4 فیصد کو مالی امداد سے نکال کر خود کفیل بنایا گیا، جو وژن کے ہدف سے زیادہ ہے۔
صحت
متوقع اوسط عمر بڑھ کر 79.7 سال ہو گئی، جو 2030 کے ہدف 80 سال کے قریب ہے۔
اہم کامیابیاں:
- 70 فیصد کینسر کیسز کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص
- متعدی امراض سے اموات میں 50 فیصد کمی
- دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی
- ٹریفک حادثات سے اموات میں 60 فیصد کمی
سیاحت
2025 میں سیاحوں کی تعداد 123 ملین تک پہنچ گئی جبکہ اخراجات 304 ارب ریال رہے۔
سعودی عرب عالمی سطح پر سیاحت کی آمدنی میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا ملک بن گیا۔
زراعت و ماحولیات
زرعی پیداوار 6 ملین ٹن سے بڑھ کر 12 ملین ٹن ہو گئی۔
خوراک میں خود کفالت میں نمایاں اضافہ ہوا:
- دودھ 120 فیصد
- انڈے 105 فیصد
- مرغی 76 فیصد
خوشحال معیشت
جی ڈی پی 4.5 فیصد بڑھ کر 4.9 ٹریلین ریال ہو گئی۔
غیر تیل برآمدات 15 فیصد بڑھ کر 623 ارب ریال تک پہنچ گئیں۔
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اثاثے بڑھ کر 3.4 ٹریلین ریال ہو گئے۔
سرمایہ کاری
700 سے زائد عالمی کمپنیوں نے سعودی عرب میں اپنے علاقائی دفاتر قائم کیے۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 133 ارب ریال تک پہنچ گئی۔
لیبر مارکیٹ
سعودیوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 7.2 فیصد ہو گئی۔
خواتین کی لیبر مارکیٹ میں شرکت 35 فیصد تک پہنچ گئی۔
تعلیم
سعودی جامعات عالمی درجہ بندی میں بہتر پوزیشن حاصل کر رہی ہیں تاہم گریجویٹس کی ملازمت کی شرح ابھی ہدف سے کم ہے۔
توانائی
2020 سے 2025 کے درمیان 14 نئے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے۔
قابل تجدید توانائی کی پیداوار 46 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔
پرعزم وطن
سعودی عرب نے ڈیجیٹل گورننس، سائبر سیکیورٹی اور حکومتی اعتماد میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔
حکومت پر عوامی اعتماد 87 فیصد تک پہنچ گیا۔
غیر منافع بخش شعبہ
اس شعبے کی جی ڈی پی میں شراکت 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد ہو گئی۔
رضاکارانہ خدمات
رضاکاروں کی تعداد بڑھ کر 1.75 ملین ہو گئی، جو ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔