ایران نے بحری محاصرے کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط قرار دیا
یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی جو عراقچی نے جمعہ کی شام اسلام آباد پہنچنے پر اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ہوٹل سیرینا میں کی، جہاں تقریباً دو ہفتے قبل امریکا کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا۔
ادھر توقع ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر جلد ہی پاکستانی دار الحکومت پہنچیں گے تاکہ ایران کے ساتھ نئے مذاکراتی دور کا آغاز کیا جا سکے، اگرچہ براہِ راست مذاکرات کا امکان تاحال غیر یقینی ہے۔
جہاں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی ایرانی نمائندوں سے ’براہِ راست بات چیت‘ کریں گے، وہیں ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ براہِ راست مذاکرات زیر غور نہیں ہیں۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ممکنہ ایرانی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران واشنگٹن کے مطالبات پورے کرنے کے لیے کوئی تجویز پیش کر سکتا ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات سے لاعلمی ظاہر کی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تو ٹرمپ نے کہا میں یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم اس وقت ذمہ دار افراد سے بات کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس سے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد پر سوالات اٹھ گئے۔
ایران نے 13 اپریل کو اپنے بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرے کو ختم کرنے کو مذاکرات کی شرط قرار دیا ہے اور اسے 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ اس محاصرے کو برقرار رکھنے پر قائم ہے اور اس کے خاتمے کو کسی قابلِ قبول معاہدے سے مشروط کر رکھا ہے، جبکہ خطے میں ایک تیسرا طیارہ بردار جہاز بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔