اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

قالیباف کے استعفے کی افواہیں بے بنیاد، ایران نے اختلافات کی تردید کر دی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قالیباف استعفیٰ افواہ
ایرانی پارلیمنٹ کا مؤقف: مذاکراتی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں، قیادت متحد ہے (فوٹو: العربیہ)

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران پھیلنے والی افواہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مرکزِ توجہ بنا دیا، جن میں ان کے استعفے کی بات کی گئی تھی۔ 

ان افواہوں میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی قیادت کے مختلف دھڑوں کے درمیان امریکی مذاکرات کے معاملے پر اختلافات کے باعث انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا ہے تاہم پارلیمنٹ کے میڈیا آفس نے اس خبر کی مکمل تردید کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی پارلیمنٹ کے مواصلات، میڈیا اور ثقافتی امور کے مرکز کے سربراہ ایمان شمسی نے جمعہ کی شام کہا کہ ’یہ گردش کرنے والی افواہیں صرف عوامی رائے کو بھڑکانے کے لیے ہیں‘۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ قالیباف پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور امریکی فریق کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کی تشکیل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اندرونی کشمکش اور اختلافات

یہ تردید ان خبروں کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی نظام کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، جس کے باعث امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔ 

اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ تہران ایک ’گہری اور خطرناک داخلی بحران‘ کا شکار ہے، جس میں شدید اختلافات فیصلہ سازی کو مفلوج کر رہے ہیں۔

افواہ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی مداخلت کے باعث قالیباف الگ ہو گئے

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ قالیباف، جو دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے دوران واشنگٹن کے ساتھ رابطوں میں سرگرم تھے، پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی مداخلت کے باعث اس عمل سے الگ ہو گئے۔
بعد ازاں ایران نے ان خبروں کو ’افواہ‘ قرار دیا، تاہم متعدد میڈیا رپورٹس نے مبینہ استعفے کو مختلف عوامل سے جوڑا، جن میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مذاکراتی عمل میں مداخلت شامل ہے، جس سے قالیباف کے لیے سفارتی گنجائش محدود ہو گئی۔

کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ قالیباف کو اس بات پر اندرونی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے ’جوہری پروگرام‘ کو مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی، جسے بعض حلقوں میں ’سرخ لکیر‘ تصور کیا جاتا ہے

یہ تمام ہنگامہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی نظام کے اندر سخت گیر اور اعتدال پسند عناصر کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا، جو مذاکراتی فیصلوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

تاہم ایرانی قیادت جن میں صدر مسعود پزشکیان، قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں، نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں قیادت اور عوام مکمل طور پر متحد ہیں۔