رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ قالیباف، جو دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے دوران واشنگٹن کے ساتھ رابطوں میں سرگرم تھے، پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی مداخلت کے باعث اس عمل سے الگ ہو گئے۔
بعد ازاں ایران نے ان خبروں کو ’افواہ‘ قرار دیا، تاہم متعدد میڈیا رپورٹس نے مبینہ استعفے کو مختلف عوامل سے جوڑا، جن میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مذاکراتی عمل میں مداخلت شامل ہے، جس سے قالیباف کے لیے سفارتی گنجائش محدود ہو گئی۔
قالیباف کے استعفے کی افواہیں بے بنیاد، ایران نے اختلافات کی تردید کر دی
Overseas Post