اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

حشرات اور کیڑے: تاریخی جنگوں کے گمنام سپاہی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

جاپانی سلطنت اور چین کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ، 7 جولائی 1937 کو مارکو پولو برج کا واقعہ دوسری چین، جاپان جنگ کے آغاز کا سبب بنا، جب جاپان نے دعویٰ کیا کہ اس کے ایک سپاہی کو پل کے قریب سے لاپتہ پایا گیا ہے۔ 

یہ جنگ 1945 تک جاری رہی، جس دوران جاپانی افواج چین کے اندرونی علاقوں تک داخل ہو گئیں اور اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔

یونٹ 731

شمال مشرقی چین میں، ہاربن شہر کے قریب، شاہی جاپانی فوج نے ایک انتہائی خفیہ تنصیب قائم کی جسے ’یونٹ 731‘ کے نام سے جانا گیا اور یہ انسانی تاریخ کی بدترین خلاف ورزیوں میں سے ایک سے منسلک رہی۔ 

مزید پڑھیں

اس یونٹ کی قیادت جاپانی ڈاکٹر شیرو ایشی کے پاس تھی، جسے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کا ذمہ دیا گیا تھا۔ 

یہ مقام ایک وسیع تجربہ گاہ میں تبدیل ہو گیا جہاں انسانوں پر حیاتیاتی اور کیمیائی تجربات کیے جاتے تھے، جو بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھے۔

ان تجربات میں وحشیانہ طریقے شامل تھے، جیسے قیدیوں کا بے ہوشی

 کے بغیر زندہ چیر پھاڑ کرنا، انہیں جان بوجھ کر بیماریوں سے متاثر کرنا تاکہ مرض کے ارتقا کا مشاہدہ کیا جا سکے اور ان کے جسموں پر آتش گیر ہتھیاروں کے اثرات کا مکمل ہوش میں رہتے ہوئے مشاہدہ کرنا، اس کے علاوہ بھی کئی انتہائی ظالمانہ تجربات کیے گئے۔

اندازوں کے مطابق 10 ہزار سے 12 ہزار تک چینی قیدی ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

208682
ہیٹی کی جنگِ آزادی میں مچھر نے فیصلہ کن کردار ادا کیا (فوٹو: المجلہ)

یونٹ کی سرگرمیاں صرف اندرونی تجربات تک محدود نہ تھیں بلکہ اس نے ایسے حیاتیاتی ہتھیار بھی تیار کیے جو میدانِ جنگ میں استعمال کیے گئے، جن میں کیڑوں کو بیماری پھیلانے کے لیے بطور ذریعہ استعمال کرنا بھی شامل تھا، تاکہ شہری آبادی میں بیماریاں پھیلائی جا سکیں۔ 

یہ جنگی تاریخ کی سب سے وحشیانہ صورتوں میں سے ایک تھی۔

کیڑوں کو جنگ میں استعمال کرنا کوئی جدید تصور نہیں تھا، بلکہ قدیم تہذیبوں جیسے یونانیوں، رومیوں اور چینیوں میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں، جہاں شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کو دشمن کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

مچھروں نے فرانس کو شکست دے دی

انیسویں صدی کے آغاز میں ایک دلچسپ مثال یہ بھی ہے کہ جب نپولین بوناپارٹ نے ہیٹی میں انقلاب کو دبانے کے لیے فوج بھیجی، تو فرانسیسی افواج کی برتری کے باوجود ان کی ناکامی میں پیلے بخار Yellow Fever پھیلانے والے مچھر کا بڑا کردار تھا، جس سے تقریباً 50 ہزار فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے اور یوں ہیٹی نے 1804 میں آزادی حاصل کر لی۔

208680
جنگ کے بعد امریکہ نے تحقیق کے بدلے یونٹ کے کئی ارکان کو استثنیٰ دیا (فوٹو: المجلہ)

اس وقت فرانسیسیوں کو یہ علم نہیں تھا کہ مچھر اس بیماری کو پھیلاتا ہے، جبکہ مقامی آبادی اس کے خلاف نسبتاً زیادہ مزاحمت رکھتی تھی۔ 

بعد ازاں انیسویں صدی کے آخر میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ حشرات بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مائیکروبائیولوجی کا علم

یہ سمجھ بوجھ اس وقت واضح ہوئی جب مائیکروبائیولوجی اور انسیکٹولوجی کے علوم ایک دوسرے سے ملے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے طریقہ کار سامنے آئے۔

سترہویں صدی میں ڈچ تاجر اینٹونی فان لیوینہوک نے ابتدائی خوردبین تیار کی اور پہلی بار خردبینی جانداروں کو دیکھا، جس سے مائیکروبائیولوجی کی بنیاد پڑی۔ 

ابتدا میں ان مشاہدات پر شک کیا گیا، لیکن بعد میں انہیں تسلیم کیا گیا اور لیوینہوک کو ’بابائے مائیکروبائیولوجی‘ کہا گیا۔

man with gas mask in apocalyptic post war environm 2026 03 24 22 51 18 utc

انیسویں صدی تک یہ خیال عام تھا کہ ہیضہ، طاعون اور ملیریا بدبو دار اور آلودہ ہوا سے پھیلتے ہیں، جسے ’مایازما تھیوری‘ کہا جاتا تھا۔ 

بعد میں لوئی پاسچر اور رابرٹ کوخ نے ثابت کیا کہ اصل وجہ جراثیم ’بیکٹیریا اور وائرس‘ ہیں، جس سے جراثیمی نظریہ Germ Theory سامنے آیا۔

طاعون پھیلانے کی کوشش

پروٹوکول جنیوا کے دوران یونٹ 731 نے انتہائی مہلک بیکٹیریا تیار کیے، اور پسوؤں کے ذریعے طاعون پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ 

ان متاثرہ حشرات کو خول دار بموں میں رکھ کر ہوائی جہازوں سے گرانا شامل تھا، جو زمین پر گر کر بیماری پھیلاتے تھے۔

اندازوں کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار چینی شہری ان حیاتیاتی حملوں میں ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد ان کیڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہوئی۔

soldiers in military operation at night in soldier 2026 01 07 01 41 00 utc

بعد ازاں جاپان کی شکست کے قریب آتے ہی شواہد کو چھپانے کے لیے یونٹ 731 کی تنصیبات تباہ کر دی گئیں اور عملے کو قتل کر دیا گیا۔

حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی

1925 کے جنیوا پروٹوکول میں زہریلی گیسوں اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن کئی بڑی طاقتوں نے اسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث اس کے باوجود ان ہتھیاروں پر کام جاری رہا۔

1945 میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد یونٹ کے زیادہ تر ارکان جاپان واپس چلے گئے۔ 

ٹوکیو ٹرائلز کے دوران امریکہ نے ان کے تجربات کی معلومات حاصل کرنے کے بدلے انہیں مقدمے سے استثنیٰ دے دیا، جس کے نتیجے میں شیرو ایشی کو سزا نہیں ملی اور وہ 1959 میں کینسر سے وفات پا گیا۔

کئی دہائیوں تک جاپانی حکومت یونٹ 731 کے وجود سے انکار کرتی رہی، تاہم 1980 کی دہائی کے بعد اعترافات شروع ہوئے۔ 

2018 میں جاپانی قومی آرکائیوز نے یونٹ کے 3607 ارکان کی فہرست جاری کی۔

long horn beetle 2026 01 05 06 04 39 utc

جدید دور میں حشرات کا استعمال

جدید دور میں کیڑے اب صرف جنگی اوزار نہیں رہے بلکہ جینیاتی انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں مزید پیچیدہ طریقوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر امریکی دفاعی ادارہ DARPA ایسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں کیڑوں کے ذریعے فصلوں تک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس پہنچائے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ’سائبرگ انسیکٹس‘ بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن میں کیڑوں کے جسموں میں الیکٹرانک نظام نصب کر کے انہیں نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اگرچہ حیاتیاتی ہتھیاروں کے معاہدے ان کے استعمال پر پابندی لگاتے ہیں لیکن ان ٹیکنالوجیز کا دفاعی یا جارحانہ استعمال ایک بڑا اخلاقی اور قانونی تنازع بن چکا ہے۔

man in respirator against nuclear background glob 2026 04 14 00 13 36 utc

ماہرین کے مطابق یہ جدید پیش رفت ماحولیاتی نظام، غذائی سلامتی اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ قابو سے باہر ہو جائیں۔

یوں ’کیڑوں کی جنگ‘ ایک قدیم تصور سے ترقی کرتے ہوئے جدید بایوٹیکنالوجی اور جینیاتی انجینئرنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو انسانیت کے لیے بے پناہ امکانات کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک چیلنجز بھی رکھتی ہے۔

بشکریہ: المجلہ