آبنائے ہرمز میں ایرانی جارحیت اور تین بحری جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا کی پانچویں حصے کی توانائی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
بحری سرنگوں کا خطرہ اور طویل ہوتا معاشی بحران
پینٹاگون کے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں 20 سے زائد جدید جی پی ایس لیس بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ جنگ کے بعد بھی ان سرنگوں کو مکمل طور پر ہٹانے میں کم از کم 6 ماہ کا طویل عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔
نقل و حمل میں نمایاں کمی
جنگ کے آغاز سے قبل اس راستے سے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر کبھی کبھار ایک جہاز تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق اس تعطل سے عالمی آئل سپلائی میں 10 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ایرانی کنٹرول اور امریکی بحری ناکابندی
ایران نے وسط مارچ سے ہرمز پر عملی کنٹرول حاصل کر کے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس کی وصولی شروع کی تھی۔
بعد میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بحیرہ عرب میں سخت ناکابندی نافذ کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود رپورٹس ہیں کہ 34 ایرانی ٹینکرز ناکابندی توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
تجارتی جہازوں کی غیر یقینی صورتحال
بلومبرگ اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران اپنے ’موسکیٹو فلیٹ‘ (تیز رفتار کشتیوں) کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہے۔
اگرچہ 3 ہفتے قبل کچھ سیاحتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن مجموعی طور پر مال بردار جہازوں اور انشورنس کمپنیوں کے لیے خطرات برقرار ہیں، جس سے جہاز رانی کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی پر اثرات اور مستقبل
اس وقت برینٹ کروڈ 104 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 95 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی، بلکہ ایرانی جوہری پروگرام اور علاقائی تنازعات پر ایک جامع سفارتی معاہدہ ہی عالمی توانائی کی منڈی میں اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کا بحران محض عسکری نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ پر دباؤ ہے۔
ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں اور امریکی ناکابندی کے درمیان جاری یہ کشمکش ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی بحری تجارت کی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگی، جس کے اثرات طویل عرصے تک عالمی توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز رہیں گے۔