اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

امریکا، ایران کشیدگی میں نیا موڑ، امن کی امید پھر جاگ گئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات
امریکا ایران کشیدگی: اسلام آباد میں اہم مذاکرات، جنگ بندی کا مستقبل داؤ پر

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ پاکستان ایک بار پھر اہم سفارتی مرکز بن کر ابھرا ہے، جہاں جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ 

ایک جانب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتہ کے روز اسلام آباد پہنچنے والے ہیں، تو دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی اہم علاقائی دورے کے تحت پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیویٹ کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں ایرانی جانب سے ’کچھ پیش رفت‘ محسوس کی ہے اور اسے امید ہے کہ آنے والے مذاکرات میں مزید پیش رفت ممکن ہوگی تاہم اس بار نائب صدر جے ڈی وینس کے شرکت نہ کرنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے مذاکرات کی نوعیت اور سطح پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

ادھر عباس عراقچی نے اپنے دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان، سلطنت عمان اور روس کے ساتھ دوطرفہ امور پر ہم آہنگی اور علاقائی صورتحال پر مشاورت ہے۔

 انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واضح کیا کہ ’ہمسایہ ممالک ہماری اولین ترجیح ہیں‘ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اس بحران میں علاقائی حمایت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

4654564
فوٹو: العربیہ

ذرائع کے مطابق عراقچی واشنگٹن کی جانب سے پیش کیے گئے ممکنہ امن معاہدے پر تحریری جواب بھی ساتھ لائے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

 اسی تناظر میں اسلام آباد میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھی بات چیت جاری ہے، جسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس وقت دوسرے مذاکراتی دور کی تیاری جاری ہے تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں موجود امریکی وفد کو براہِ راست مذاکرات کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ وہ صرف لاجسٹک معاونت فراہم کر رہا ہے۔

اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف ممکنہ طور پر آئندہ مذاکراتی دور میں شریک نہیں ہوں گے، جس سے مذاکراتی عمل کی سمت پر مزید غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔

اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران عباس عراقچی کی متوقع ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کے طور پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری طرف تنازع کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز سے جڑا ہوا ہے، جہاں ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کو اس اہم گزرگاہ کو کھولنے سے مشروط کر رکھا ہے۔

545446464
فوٹو: العربیہ

 تہران کے مطابق پابندیوں کا تسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ جنگ بندی کی توسیع مستقل نہیں اور ضرورت پڑنے پر جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پہلے مذاکراتی دور (11 اپریل، اسلام آباد) کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ 

اس کے بعد سے کشیدگی، دھمکیوں اور سخت مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی ثالثی، پسِ پردہ رابطے اور علاقائی سفارت کاری اس بحران کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوگی، یا پھر دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔