اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

امریکی ناکابندی سے ایرانی آئل فیلڈز اور ذخائر کو شدید خطرات لاحق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی آئل فیلڈز خطرہ امریکی ناکابندی تیل بحران
آبنائے ہرمز (فوٹو: اے ایف پی)

13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکابندی کے نفاذ کے بعد تہران ایک سنگین معاشی اور تکنیکی چیلنج سے دوچار ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق اب معاملہ صرف تیل فروخت کرنے تک محدود نہیں، بلکہ پیدا ہونے والے اضافی تیل کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے سے آئل فیلڈز کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ناکابندی کی وجہ سے ایران کی روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جو زیادہ تر چین جاتی تھیں۔

ایران روزانہ 35 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جس میں سے 20 لاکھ بیرل 

مقامی آئل ریفائنریوں میں استعمال ہوتا ہے۔

اضافی تیل اور اسٹوریج کی حد

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کو روزانہ تقریباً 15 لاکھ بیرل اضافی تیل کو یا تو برآمد کرنا ہے یا ذخیرہ کرنا ہے۔

اگر یومیہ فاضل پیداوار 18 لاکھ بیرل تک پہنچ جائے تو 30 ملین بیرل کی گنجائش محض 16 سے 17 دنوں میں مکمل طور پر بھر سکتی ہے۔

ایرانی آئل فیلڈز خطرہ امریکی ناکابندی تیل بحران
سیٹلائٹ تصویر میں ایران کے جزیرہ خارگ پر تیل کا ٹرمینل دکھایا گیا ہے (فوٹو: رائٹرز)

سمندری ٹینکرز: عارضی حل

موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایران سمندر میں کھڑے یا متحرک ٹینکرز کو ’فلوٹنگ اسٹوریج‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اسی لیے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی نقل و حرکت جاری ہے، تاہم ٹینکرز میں ذخیرہ کرنا ایک عارضی حل ہے جو انتہائی مہنگا اور سخت نگرانی کے باعث خطرناک ہے۔

تین مشکل ترین معاشی آپشنز

اگر ایران کے زمینی ذخائر بھر گئے تو اسے 3 مشکل راستوں کا سامنا ہوگا۔

  • اول : پیداوار میں بتدریج کمی لانا
  • دوم: بعض آئل فیلڈز کو عارضی طور پر بند کرنا
  • سوم: غیر روایتی راستوں سے کم قیمت پر اور زیادہ انشورنس لاگت کے ساتھ تیل فروخت کرنے کا رسک لینا۔
ایرانی آئل فیلڈز خطرہ امریکی ناکابندی تیل بحران
آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز (فوٹو: اے ایف پی)

آئل فیلڈز کی بندش کے طویل مدتی اثرات

عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیچز کے تجزیے کے مطابق آئل فیلڈز کو تیزی سے یا طویل مدت کے لیے بند کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سے زیر زمین دباؤ (میکانزم) متاثر ہوتا ہے، جس سے ناکابندی ختم ہونے کے بعد بھی پیداوار کو دوبارہ معمول پر لانا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہوگا۔

ایران کا موجودہ بحران محض برآمدات کی تعداد تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ’وقت‘  کا ایک خطرناک مقابلہ بن چکا ہے۔

اگر امریکی ناکابندی جاری رہی تو یہ دباؤ مارکیٹ سے منتقل ہو کر براہ راست آئل فیلڈز کو نشانہ بنائے گا، جس سے یہ مقامات ہمیشہ کے لیے ’ڈیڈ فیلڈز‘ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔