اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے وفود کو ایک جگہ لانے کے لیے دوسرے مرحلے کی مذاکراتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال مذاکرات کی منسوخی کی کوئی بات نہیں ہو رہی تاہم یہ رکے ہوئے ہیں اور پیش رفت انتہائی سست ہے۔
پاکستانی ذرائع نے العربیہ کو واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو حقیقی جمود کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع کے مطابق ایران نے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے کہ محاصرہ اس کی مذاکرات میں شرکت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جبکہ واشنگٹن اب بھی ایران پر بحری ناکہ بندی جاری رکھنے پر قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کے لیے تہران اور واشنگٹن کو لچک دکھانا ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم ایران کو اسلام آباد آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر
رہے ہیں تاکہ اس پر عائد بحری محاصرہ کم کیا جا سکے۔
ادھر مذاکرات کی تیاری کرنے والے تکنیکی وفود اب تک اسلام آباد سے روانہ نہیں ہوئے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ ایرانی فریق کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاہم تاحال کوئی حتمی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے دو روز قبل 8 اپریل کی صبح سے شروع ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا تاکہ سفارتی حل کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تہران کے پاس امریکی مطالبات پر متحدہ جواب یا تجویز پیش کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔
ایک امریکی ذریعے اور وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو مزید 3 سے 5 دن تک بڑھانے پر آمادہ ہیں تاکہ سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پیر کے روز سے اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے استقبال کی تیاریاں جاری تھیں تاکہ وہ منگل یا بدھ کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کریں تاہم ایران نے باضابطہ طور پر اپنی شرکت کا اعلان نہیں کیا جبکہ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکی وفد جلد پاکستان پہنچے گا۔