ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کو آبنائے ہرمز پر عائد کردہ فیس سے پہلی آمدنی موصول ہو گئی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے جمعرات کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کی فیس سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا ہے تاہم بابائی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی نے 30 مارچ کو گزرگاہ فیس عائد کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پارلیمنٹ میں اس تجویز پر حتمی ووٹنگ ہوئی یا نہیں۔
اسی دوران اسٹاربورڈ انٹیلیجنس اور مرکز CSIS کی جانب سے جاری کردہ بحری اعداد و شمار کے مطابق، 4 مارچ کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد
تقریباً 45 دنوں میں 187 جہاز اور آئل ٹینکرز اس گزرگاہ سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، یعنی یومیہ اوسط صرف 4 جہاز۔
Strait of Hormuz traffic tracker https://t.co/VCbSZ6Jku9
— Reuters (@Reuters) April 23, 2026
اعداد و شمار کے مطابق گزرنے والے 23 فیصد جہاز چینی رجسٹری میں شامل تھے، جبکہ 17 اپریل کو صرف 13 آئل ٹینکرز نے آبنائے عبور کا، جس کے بعد اسے دوبارہ بند کر دیا گیا۔
یہ شرح معمول سے کہیں کم ہے، کیونکہ اس اہم گزرگاہ سے روزانہ 150 سے زائد جہاز اور آئل ٹینکرز گزرتے تھے۔
امریکہ اور یورپی ممالک پہلے ہی اس اہم بحری راستے پر، جہاں سے عالمی تیل و گیس کی پانچواں حصہ ترسیل ہوتا ہے، فیس عائد کرنے کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔
دوسری طرف ایران گزشتہ عرصے سے یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی اور اس نے ایک ’نئے نظام‘ کا عندیہ بھی دیا ہے۔
حال ہی میں ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کو امریکی افواج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جس کا مقصد تہران پر معاشی دباؤ کم کرنا اور اسے مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔