اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

’کھیل پلٹ گیا‘ہرمز کی ناکابندی اور ایران امریکہ تنازع میں اہم موڑ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز ناکابندی ایران امریکہ تنازع تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک تقریب میں خطاب کررہے ہیں (فوٹو: ایکس)

گزشتہ ہفتے کے آخر میں سامنے آنے والی نمایاں پیشرفت کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشمکش ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ ایک اہم موڑ ضرور ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

فریقین میں اہم اور متنازع مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ پورا خطہ 40 دن کی جنگ کے دھچکے کو ابھی تک ہضم کر رہا ہے جبکہ امریکی فوجی دستے خطے میں جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اب ایسا لگتا ہے کہ حکمتِ عملی کی بساط پر توازن ٹھوس انداز میں بدل چکا ہے اور کسی بڑے نئے فوجی تصادم کا امکان نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ آگے کیا ہو سکتا ہے؟

تہران کا ہتھیار

تنازع کے شروع ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ایران نے سمجھا کہ اس نے دباؤ کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لیا ہے۔ یعنی آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے بند کرنے کی دھمکی، سوائے اُن کے جنہیں تہران دوست سمجھے۔

مبصرین کے مطابق تہران ہمیشہ سے جانتا تھا کہ یہ آبنائے دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے ۔ دنیا کی تیل فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ انہی تنگ پانیوں سے گزرتا ہے۔ 

تاریخی طور پر ایران کی طرف سے محض آمد و رفت پر پابندی کا اشارہ ہی بازاروں میں ہلچل مچانے اور سفارت کاروں کو تیزی سے حرکت میں آنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی رہا۔

اس بار ایرانی قیادت کو لگا کہ وہ اس دھمکی کو جارحانہ استعمال کر سکتی ہے۔ محض علامتی اشارے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک جبری ہتھیار کے طور پر جو امریکی اور اسرائیلی دباؤ کو جاری رکھنے کی قیمت بڑھا دے۔

واشنگٹن کی جوابی چال

اس صورت حال میں امریکہ نے بالآخر ایک ایسا جوابی اقدام کیا جس نے کھیل کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔

واشنگٹن نے ایران کی طرف جانے والی اور ایران سے آنے والی تمام بحری ترسیل پر ناکابندی عائد کر کے ایک نئی اسٹریٹیجک برتری قائم کرلی، جسے تہران نظرانداز نہیں کر سکتا۔

ایران کے توانائی کی برآمدات پر مکمل معاشی انحصار کا مطلب یہ تھا کہ اس کی مال برداری پر جزوی پابندی بھی آمدنی میں تباہ کن نقصان کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے اور امریکہ نے اسی سے فائدہ اٹھایا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران کی آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش مخالف فریق کے ایک زیادہ مؤثر ہتھیار سے ٹکرا گئی۔

امریکہ کو آبنائے ہرمز بند کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اسے صرف ایران کی اس تک رسائی روکنی تھی اور یہی اقدام فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ 

تہران کا چند روز قبل یہ اعلان کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا گیا ہے، کوئی احسان یا فیاضی نہیں تھی ، بلکہ یہ معاشی خوف کے سامنے گھٹنے ٹیکنا تھا۔

آگے کیا؟: محاصرہ اور ایٹمی ڈیل

تجزیہ کاروں کے مطابق اگلا قدم کم اہم نہیں ہوگا۔ امریکی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ محاصرہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایرانی ایٹمی مواد کے بارے میں ایک واضح اور قابلِ تصدیق معاہدہ نہیں ہو جاتا اور ایران کے ایٹمی عزائم پر طویل المدت پابندیاں نہیں لگ جاتیں۔

یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے، لیکن اس کے پیچھے جو امریکی برتری کھڑی ہے، وہ ضرور نئی ہے۔ برسوں بعد پہلی بار ایران کو ایسے دباؤ کا سامنا ہے جو اس کی معیشت کو براہِ راست خطرے میں ڈالتا ہے۔

اگر یہ صورتِ حال ایٹمی مسئلے کے پائیدار حل تک لے جائے ، اگر ایران اہم ایٹمی مواد ترک کر دے اور مستقبل کی اسلحہ سازی سرگرمیوں پر بامعنی اور قابلِ تصدیق پابندیاں قبول کر لے  تو یہ اس پورے تنازع کا سب سے اہم اسٹریٹیجک نتیجہ ہوگا۔ 

اس فیصلے سے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ از سرِ نو بن سکتا ہے اور خطے میں عدم استحکام کے سب سے پرانے اور مستقل محرکات میں سے ایک کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

تین ممکنہ منظرنامے

پہلا (بہترین نتیجہ): ایٹمی معاملے پر ایک پائیدار سمجھوتہ جو خطے کی ساخت بدل دے گا۔

دوسرا (غیر جانبدار نتیجہ): ایران کی ہرمز کو جبری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کے دوبارہ امکانات ختم ہو جائیں گے۔

تیسرا (تشویشناک نتیجہ): تہران کا نظام بدلا نہیں۔ 1979ء کی انقلابی قیادت بنیادی طور پر اپنی جگہ پر قائم ہے ، بلکہ جنگ نے شاید اسے مضبوط کردیا ہے۔

 مجتبیٰ خامنہ ای فی الحال کاغذ پر تو نئے سپریم لیڈر ہیں، لیکن شاید اس سے بھی زیادہ اہم تبدیلی پاسدارانِ انقلاب کی طاقت میں اضافہ ہو۔

کئی اور پریشان کن سوالات

کیا ایران اپنی فوجی صلاحیتیں نسبتاً تیزی سے دوبارہ تعمیر کر لے گا؟ یہ تقریباً یقینی ہے۔

کیا وہ انہیں تنازع کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں سے سبق لیتے ہوئے زیادہ مؤثر انداز میں دوبارہ بنائے گا ؟یہ ایک حقیقی امکان ہے۔

کیا پاسدارانِ انقلاب اس ناکابندی کو ایک ایسی توہین سمجھیں گے جس کا جواب درمیانی یا طویل مدت میں دینا ضروری ہے، نہ کہ ایک کامیاب ردّعمل کے طور پر تسلیم کریں؟ اسے بھی یکسر رد نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایٹمی مسئلے پر حقیقی پیشرفت جدید تاریخ میں کسی بھی وقت سے زیادہ ممکن نظر آتی ہے، لیکن اس خطے میں ایسی پیشرفت عام طور پر دباؤ کے نیچے دم توڑ دیتی ہے۔

آنے والے ہفتے بتائیں گے کہ جنگ بندی میں توسیع اور ناکابندی جاری رکھنے کا امریکی فیصلہ محض ایک عارضی وقفہ ہے یا کچھ اور۔ حقیقت یہی ہے کہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ، لیکن اس کا رُخ بدل گیا ہے۔