باوجود اس کے کہ اس کا وقت آ چکا ہے، پھر بھی ماہرین کے مطابق آخری ’موقع کی مذاکرات‘ کہلانے والی بات چیت کے گرد اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے ٹوٹنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر حالیہ کشیدگی کے بعد، جب امریکہ نے اتوار کے روز ایرانی کارگو جہاز ’توسکا‘ کو یہ کہہ کر قبضے میں لے لیا کہ وہ امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مزید پڑھیں
اس کے علاوہ تہران کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے اسلام آباد جانے میں ہچکچاہٹ بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ ایران پہلے پابندیاں ختم کرنے کی شرط رکھتا ہے۔
اگر پاکستانی ثالث کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اہم سوال یہ ہے کہ ہر فریق کن طاقتور پوزیشنز کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہو رہا ہے؟
ایران کی طاقت کے عوامل
ایران چند اہم نکات پر انحصار کر رہا ہے اور اس نے مذاکرات میں واپسی سے قبل کچھ مسائل کے حل کی شرط رکھی ہے، جن میں لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔
فوجی دباؤ کے مقابلے میں استقامت
تقریباً 40 دن جاری رہنے والی جنگ کے دوران، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی، ایران نے شدید حملوں کا سامنا کیا لیکن اس نے اپنی زبان میں ’غیر معمولی ثابت قدمی‘ دکھائی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسی استقامت نے واشنگٹن کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا تاکہ طویل جنگ سے بچا جا سکے۔
تہران یونیورسٹی کے مشرق وسطیٰ کے ماہر حسن احمدیان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اپنے اہم اہداف، خصوصاً ایران میں نظام کی تبدیلی، حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس سے ایران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز
آبنائے ہرمز اس وقت ایران کا سب سے اہم ہتھیار بن چکا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔
مبصرین اسے ’ایران کا حقیقی جوہری ہتھیار‘ قرار دیتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ جب تک امریکی پابندیاں برقرار رہیں گی، یہ آبنائے بند رہے گا۔
اگرچہ ایران نے جنگ بندی کے بعد عارضی طور پر اسے کھولا تھا مگر چند ہی آئل ٹینکرز کے گزرنے کے بعد اسے دوبارہ بند کر دیا گیا، جسے اس نے ’امریکی بحری قزاقی‘ کا ردعمل قرار دیا۔
معاشی اثرات
اگرچہ امریکہ براہ راست اس راستے سے تیل پر انحصار نہیں کرتا لیکن آبنائے کی بندش نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس سے امریکی صارفین بھی متاثر ہوئے۔
عالمی مالیاتی ادارے بھی عالمی کساد بازاری کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
چین اور روس کی حمایت
چین اور روس نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کو ویٹو کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کی اپیل کی گئی تھی، اور اسے ایران کے خلاف جانبدار قرار دیا۔
جوہری پروگرام
ایران کا جوہری پروگرام بھی ایک اہم مذاکراتی کارڈ ہے۔
امریکہ یورینیم افزودگی روکنے اور تنصیبات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران اس پر اپنے حق پر زور دیتا ہے۔
ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو مزید افزودگی کے بعد ایٹمی ہتھیار بنانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔
امریکہ اس مواد کو اپنے کنٹرول میں لینے کا خواہاں ہے، تاہم ایران نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی داخلی دباؤ
امریکہ کے اندر بھی جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر آئندہ وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر، جس سے ایران کی مذاکراتی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی ہے۔
امریکہ کی طاقت کے عوامل
امریکہ اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی فوجی برتری کو استعمال کر رہا ہے اور مسلسل یہ عندیہ دے رہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امریکی پیشکش قبول نہ کی تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔
فوجی تعیناتی
رپورٹس کے مطابق امریکہ ہزاروں اضافی فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں طیارہ بردار جہاز USS George H. W. Bush بھی شامل ہے۔
اندازوں کے مطابق تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایران سے متعلق آپریشنز میں مصروف ہیں۔
بحری ناکہ بندی
امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایرانی جھنڈا بردار جہاز یا اس کی مدد کرنے والے جہاز کو نشانہ بنائے گا، چاہے وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہی کیوں نہ ہو۔
ایرانی جہاز ’توسکا‘ کی ضبطی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ فوجی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔
خلاصہ
یہ مذاکرات دراصل طاقت کے توازن کا کھیل ہیں، جہاں ایک طرف ایران اپنی جغرافیائی اور جوہری حیثیت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ اپنی فوجی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر کون اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہوتا ہے۔