امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آسان یا مشکل طریقے سے ہو کر رہے گا، اور تہران کے پاس یہ آخری موقع ہے۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ کسی نہ کسی صورت میں ہوگا، چاہے آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے۔
مزید پڑھیں
اسی دوران ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی، جسے انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کے مطابق اس فائرنگ کا نشانہ ایک فرانسیسی اور ایک برطانوی جہاز بھی بنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا
اعلان کیا، جسے انہوں نے ,عجیبَ قرار دیا، خاص طور پر اس صورتحال میں جب امریکہ ایران پر محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق اس بندش سے ایران کو خود روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کو کوئی خاص نقصان نہیں اور جہاز امریکی ریاستوں ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی بندرگاہوں کا رخ کر رہے ہیں۔
منصفانہ پیشکش
ٹرمپ نے بتایا کہ ایک امریکی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگا اور کل شام تک وہاں پہنچ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کو <منصفانہ اور معقول آفر‘ دی ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے قبول کر لیا جائے گا تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے انکار کیا تو امریکہ ایران میں توانائی کے مراکز اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو ’پورا ملک تباہ ہو جائے گا‘ اور ایران کو بالآخر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
وینس یا وٹکوف؟
ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس سکیورٹی وجوہ کی بنا پر پاکستان نہیں جائیں گے، کیونکہ سکیورٹی ادارے ان کے دورے سے مطمئن نہیں تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے پاکستان جا سکتے ہیں۔
اہم اختلافات برقرار
دوسری جانب ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا مگر واضح کیا کہ ’ابھی بھی بڑے اختلافات موجود ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ حتمی معاہدہ ابھی دور ہے، اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے مگر کئی بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ابھی خاصا فاصلہ موجود ہے اور ہر فریق کی اپنی سرخ لکیریں ہیں، اگرچہ اختلافی نکات کی تعداد زیادہ نہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد تہران گیا، جبکہ ٹرمپ نے بھی منیر سے ٹیلیفون پر آبنائے ہرمز اور مجوزہ معاہدے پر گفتگو کی، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی شریک تھے۔