اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ اور تہران اپنی اپنی ’فتح کا بیانیہ‘ کس طرح بیچ رہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات
دونوں ممالک کو مذاکرات کے لیے لچک دکھانا ہوگی

جب دنیا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور تیل کی قیمتوں پر نظریں جمائے بیٹھی تھی، واشنگٹن اور تہران کے ایوانوں میں ایک اور معرکہ بپا تھا۔

مزید پڑھیں

یہ معرکہ ٹینکوں یا میزائلوں کا نہیں بلکہ ’الفاظ‘ اور ’بیانیے‘کا ہے۔ دونوں ممالک ایسی زبانی جنگ میں مصروف ہیں جہاں مبہم اصطلاحات کے ذریعے اپنے اپنے عوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ اصل فاتح وہی ہیں۔

آبنائے ہرمز: اپنی مرضی کی جیت

آبنائے ہرمز کا کھولنا اور بند کرنا امریکہ اور ایران کے درمیان بیانیے کی جنگ کا مرکز بن چکا ہے۔

  • امریکی بیانیہ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے کھلنے کو اپنی مرضی کی جیت اور ایران کے ’اقتصادی ہتھیار‘ ڈالنے سے تعبیر کیا ہے۔
  • وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پیشرفت بین الاقوامی جہاز رانی میں نئے ضوابط بنانے کی علامت ہے۔
  • ایرانی بیانیہ: اس کے برعکس تہران اسے اپنی برتری اور حکمت عملی کی جیت قرار دے رہا ہے۔
  • ایران نے ’کوارڈینیٹڈ پاتھ وے‘(Coordinated Pathway) کا پروٹوکول نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اب جہازوں کا گزرنا مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی اور نقشوں کے تابع ہے۔
  • ایران کا دعویٰ ہے کہ دنیا نے عملاً اس کے اس حق کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ عالمی توانائی کی شہ رگ کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
ٹرمپ ایران بیانیہ جنگ آبنائے ہرمز تنازع منظر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی 9 اپریل 2025 کو تہران میں قومی یومِ جوہری ٹیکنالوجی کی تقریب کے دوران (فوٹو: اے ایف پی)

نیوکلیئر ڈسٹ: جوہری افزودگی کا تحقیر آمیز نام

صدر ٹرمپ نے ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد اعلیٰ افزودہ یورینیم (60% پیورٹی) کے لیے ’نیوکلیئر ڈسٹ‘ (Nuclear Dust) یعنی ’ایٹمی گرد‘ کی اصطلاح استعمال کی۔

یہ ایک سوچی سمجھی لسانی حکمتِ عملی ہے تاکہ:

  1. ایران کے ایٹمی ذخیرے کی اہمیت کو عوام کی نظر میں کم کیا جا سکے۔
  2. یہ تاثر دیا جائے کہ ٹرمپ نے ایران سے ایسی ’ردی‘ یا ’کچرا‘ حاصل کیا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں۔

جبکہ تہران کے لیے یہی ’گرد‘وہ اثاثہ ہے جس نے امریکہ کو اسلام آباد کی مذاکراتی میز پر آنے اور منجمد کیے گئے 20 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کے لیے غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایران نے اس ’گرد‘کو امریکہ کے حوالے کرنے کے دعووں کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کا ضامن قرار دیا ہے۔

ٹرمپ ایران بیانیہ جنگ آبنائے ہرمز تنازع منظر
ایرانی خواتین دارالحکومت تہران میں ایران مخالف احتجاج میں نعرے لگا رہی ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

جنگ کے نقصانات اور ’معاوضہ‘

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے اسے 270 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور وہ اسلام آباد مذاکرات میں اس کا معاوضہ (Compensations) طلب کر رہا ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ یہ ہماری ترجیح ہے۔ 

دوسری جانب ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر واضح کیا کہ ’ایران کو ایک پائی بھی نہیں ملے گی‘۔ ان کے نزدیک ایران کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جا رہا بلکہ یہ محض ایک ’ڈیل‘ ہے جس میں امریکہ اپنی شرائط منوا رہا ہے۔

معاہدے کے ’تین ورژن‘ اور حقیقت

جنگ بندی کے معاہدے کے متن نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

ایران نے اپنے عوام کے لیے فارسی زبان میں جو 10 نکاتی ایجنڈا شائع کیا ہے، اس میں اسے ایک عظیم فتح کے طور پر پیش کیا گیا جس میں درج ذیل نکات شامل تھے:

  • امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کا عہد
  • آبنائے ہرمز پر ایران کا مستقل کنٹرول
  • جوہری افزودگی کا اعتراف اور تمام پابندیوں کا خاتمہ
  • خطے سے امریکی افواج کا انخلا

جبکہ وائٹ ہاؤس کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاہدے کے 3 مختلف ورژن دیکھے ہیں۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ جو متن تہران اپنے عوام کو دکھا رہا ہے، وہ جعلی ہے اور اصل معاہدہ صرف وہ ہے جو پاکستانی ثالثی کے ذریعے طے پایا ہے۔ 

دوسری جانب ٹرمپ نے تو نیویارک ٹائمز اور سی این این پر بھی حملہ کر دیا کہ وہ ایران کا فراہم کردہ جعلی  ایجنڈا کیوں شائع کر رہے ہیں۔

ٹرمپ ایران بیانیہ جنگ آبنائے ہرمز تنازع منظر
ٹرمپ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کررہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

ایک متن، دو کہانیاں

اس پوری صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف بارود سے نہیں جیتی جاتیں۔

ٹرمپ اور تہران دونوں کو ایک ایسی ’زبان‘ کی ضرورت ہے جو انہیں اپنے اپنے عوام کے سامنے ’فتح کے اسٹینڈ’پر کھڑا کر سکے۔  چنانچہ یہ معاہدہ اب ایک ایسا متن بن چکا ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔

ٹرمپ اسے ایران کی پسپائی (Surrender) کہہ کر پکار رہے ہیں اور ایران اسے اپنی مرضی مسلط کرنے کی سفارتی فتح  قرار دے رہا ہے۔