امریکی بحری ناکہ بندی ایران کے آبنائے ہرمز میں تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی حکمت عملی کے تحت ان جہازوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جو ایرانی تنصیبات سے نکل کر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، اور بعد ازاں انہیں روکا یا واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی فوج صرف خودکار ٹریکنگ نظام (AIS) پر انحصار نہیں کرتی جس کے ذریعے تجارتی جہازوں کی شناخت کی جاتی ہے تاہم انہوں نے آپریشنل سیکیورٹی کے باعث مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔
افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے اور وہاں سے داخلے یا اخراج کا کوئی راستہ امریکی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ جہازوں کو واپس ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے کی ہدایت دی گئی۔
حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے منگل کے روز دو تیل بردار جہازوں کو روکا جو ایرانی بندرگاہ چابہار سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق اس آپریشن میں 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار، 12 سے زائد جنگی بحری جہاز اور درجنوں طیارے شامل ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر لاگو کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس زمینی راستوں کے ذریعے تجارت کے متبادل موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جو اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا۔